Mahshar Badayuni

محشر بدایونی

محشر بدایونی کی غزل

    جیسے ہم آتے ہیں خدمت میں سبھی آیا کریں

    جیسے ہم آتے ہیں خدمت میں سبھی آیا کریں لیکن اے جان کرم جب ہم چلے جایا کریں میرا ذکر آتے ہی چپ ہونے کا کوئی مدعا کچھ تو آخر وہ مرے بارے میں فرمایا کریں سب ہیں ویسے اور کوئی بھی نہیں اس شہر میں یہ کہیں جانے کی بستی ہے کہاں جایا کریں سب ہیں ویسے اور کوئی بھی نہیں اس شہر میں یہ کہیں ...

    مزید پڑھیے

    انسان پہ کیا گزر رہی ہے

    انسان پہ کیا گزر رہی ہے انسانیت آہیں بھر رہی ہے اب کیا ہے دفاع ظلم کے پاس تاریخ سوال کر رہی ہے دیواریں تو ساری ہیں ادھر کی اور چھاؤں ادھر اتر رہی ہے گم اپنی ہوا میں ہیں مچھیرے موج اپنی جگہ بپھر رہی ہے آسودۂ غم ہے کوئی رت ہو وہ شاخ جو بے ثمر رہی ہے اپنی ہی خبر رہی ہے ان کو اور ...

    مزید پڑھیے

    دیوں کو خود بجھا کر رکھ دیا ہے

    دیوں کو خود بجھا کر رکھ دیا ہے اور الزام اب ہوا پر رکھ دیا ہے کسی سر پر رکھا ہے ہاتھ اس نے کسی گردن پہ خنجر رکھ دیا ہے یہ کیا باہر سے آئی لہر جس نے بجھا کر گھر کا منظر رکھ دیا ہے عجب ہیں اس گلی کے دور اندیش دیا رکھنا تھا پتھر رکھ دیا ہے بڑے موجی نہنگان تہ آب سمندر کو ہلا کر رکھ ...

    مزید پڑھیے

    گھر سے ہمیں جانے کی ضرورت نہیں اب کچھ

    گھر سے ہمیں جانے کی ضرورت نہیں اب کچھ باہر کی ہوا آ کے بتا جاتی ہے سب کچھ کیا تیز ہے یہ موسم باران سخن بھی لب ریزیٔ دل کچھ ہے نوا خیزیٔ لب کچھ کیا دام فسوں زندہ چراغوں کے لیے تھے اندازۂ شب ہم کو ہوا آخر شب کچھ عام اتنا رہا شہرۂ زر شور سرا میں کام آئی نہیں نرمیٔ تہذیب و نسب ...

    مزید پڑھیے

    کہیں صحرا میں جو دریا دیکھیں

    کہیں صحرا میں جو دریا دیکھیں ہم بھی آئینے میں چہرا دیکھیں ہم محبت کے لئے خاک اڑائیں لوگ گلیوں میں تماشا دیکھیں صبر آ جائے اگر اپنا یہ حال جن کی خاطر ہے وہ تنہا دیکھیں بند آنکھوں میں بڑی وسعت ہے بند آنکھوں ہی سے دنیا دیکھیں گھر ہے موسم سے بچانا مشکل جانب ابر و ہوا کیا ...

    مزید پڑھیے

    زندگی بھر ہم لب دریا رہے

    زندگی بھر ہم لب دریا رہے اور سرابوں کی طرح تشنہ رہے مری تاریکی سے گھر کیوں ہو سیاہ آنکھیں بجھ جائیں دیا جلتا رہے بن گئے ہر عہد کے دل کی امنگ زندہ لوگ اس طرح بھی زندہ رہے ظلم دیکھو قصر عشرت ہم بنائیں اور ہمیں پر بند دروازہ رہے جاگتی آنکھوں سے کیا آئے نظر آدمی کا ذہن اگر سویا ...

    مزید پڑھیے

    مرحلے سخت امتحان کے ہیں

    مرحلے سخت امتحان کے ہیں چل پڑے ہم بھی سینہ تان کے ہیں آسماں زیر پر ہیں جو طائر میری ہی سطح کی اڑان کے ہیں مشتعل رہنے دیں انہیں کہ بجھائیں یہ چراغ اپنے ہی مکان کے ہیں کون کہتا ہے شب کو شب نہ کہو کچھ قرینے بھی تو زبان کے ہیں آدمی اب کہاں زمیں پہ رہے سب فرشتے ہی آسمان کے ہیں جن کے ...

    مزید پڑھیے

    ہم شہر کی دیواروں میں کھنچ آئے ہیں یارو

    ہم شہر کی دیواروں میں کھنچ آئے ہیں یارو محسوس کیا تھا کہ ادھر سائے ہیں یارو رہنے بھی دو کیا پوچھ کے زخموں کا کرو گے یہ زخم اگر تم نے نہیں کھائے ہیں یارو چھیڑو کوئی بات ایسی کہ احساس کو بدلے ہم آج ذرا گھر سے نکل آئے ہیں یارو کیا سوچتے ہو تازہ لہو دیکھ کے سر میں اک دوست نما سنگ سے ...

    مزید پڑھیے

    جھوٹے اقرار سے انکار اچھا

    جھوٹے اقرار سے انکار اچھا تم سے تو میں ہی گنہ گار اچھا حبس چھٹ جائے دیا جلتا رہے گھر بس اتنا ہی ہوا دار اچھا عجز خواری ہے نہ ظاہر داری عجز کو چاہئے معیار اچھا یہ عمارت ہے اسی واسطے خوب اس عمارت کا تھا معمار اچھا اب بھی اک خدمت شہ خصلت میں شام کو جمتا ہے دربار اچھا چھوڑو یہ ...

    مزید پڑھیے

    دل اپنا حریف سیل بلا اب کیا کہیں کتنا ٹوٹ گیا

    دل اپنا حریف سیل بلا اب کیا کہیں کتنا ٹوٹ گیا آج اور تھپیڑے ٹکرائے آج اور کنارا ٹوٹ گیا پیکار ہی جن کا شیوہ ہو وہ تند ہوائیں کیا سمجھیں گل زار تو ہم پر تنگ ہوا بازو تو ہمارا ٹوٹ گیا مٹی سے خواب تراشا تھا سو اس کی یہ تعبیر ملی اب آدھا گھروندا باقی ہے اور آدھا گھروندا ٹوٹ گیا گھر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5