شبنم نے کب اس بات سے انکار کیا ہے
شبنم نے کب اس بات سے انکار کیا ہے کرنوں نے سدا اس سے بہت پیار کیا ہے شاخوں پہ اب الزام کوئی باد صبا کیوں تو نے ہی تو ہر شاخ کو تلوار کیا ہے کس کس پہ کئے لطف و کرم شہر طرب نے ہم پر بھی کوئی سایۂ دیوار کیا ہے کچھ سختیٔ امروز تو کچھ یہ بھی کہ یارو قرض غم فردا نے گراں بار کیا ہے جنگ ...