Mahshar Badayuni

محشر بدایونی

محشر بدایونی کی غزل

    شبنم نے کب اس بات سے انکار کیا ہے

    شبنم نے کب اس بات سے انکار کیا ہے کرنوں نے سدا اس سے بہت پیار کیا ہے شاخوں پہ اب الزام کوئی باد صبا کیوں تو نے ہی تو ہر شاخ کو تلوار کیا ہے کس کس پہ کئے لطف و کرم شہر طرب نے ہم پر بھی کوئی سایۂ دیوار کیا ہے کچھ سختیٔ امروز تو کچھ یہ بھی کہ یارو قرض غم فردا نے گراں بار کیا ہے جنگ ...

    مزید پڑھیے

    ایسے غربت میں بیٹھا ہوں جیسے بڑا بار سر رکھ دیا

    ایسے غربت میں بیٹھا ہوں جیسے بڑا بار سر رکھ دیا ایک صحن ایک در ایک دیوار کا نام گھر رکھ دیا اس ہنر پر جو تم اس قدر نکتہ چیں ہو تو میں کیا کہوں میرے مالک نے کیوں مجھ میں سچائیوں کا ہنر رکھ دیا میں نے شاخیں تراشیں بلندئ نشو و نما کے لیے تم کو تیشہ ملا تم نے تو کاٹ کر ہی شجر رکھ ...

    مزید پڑھیے

    شہر میں ایک عجب خاک بہ سر آیا ہے

    شہر میں ایک عجب خاک بہ سر آیا ہے کوئی افتاد پڑی ہے کہ ادھر آیا ہے یہ تو اس شہر کے رستے بھی سمجھتے ہوں گے آنے والا بڑی راہوں سے گزر آیا ہے کون جوگی ہے کہیں جس کا بسیرا نہ پڑاؤ کیا مسافر ہے کہ بے شام و سحر آیا ہے کیسا وحشی ہے کہ وحشت کی حدیں توڑ گیا کوئی صحرا کی طرف جا کے بھی گھر آیا ...

    مزید پڑھیے

    کچھ آگہی کی سبیلیں ہیں انتشار میں بھی

    کچھ آگہی کی سبیلیں ہیں انتشار میں بھی کبھی کبھی نکل آیا کرو غبار میں بھی یہ بات الگ کہ نشاں اپنا موسموں کو نہ دیں نمو کے سلسلے ہوتے ہیں ریگ زار میں بھی میں بن کے جہد رواں موج موج پھیلا ہوں مری فنا نہیں دریا کے اختیار میں بھی مسافر آپ بنا لیتے ہیں جگہ اپنی مسافروں کو بٹھا دو کسی ...

    مزید پڑھیے

    کرے دریا نہ پل مسمار میرے

    کرے دریا نہ پل مسمار میرے ابھی کچھ لوگ ہیں اس پار میرے بہت دن گزرے اب دیکھ آؤں گھر کو کہیں گے کیا در و دیوار میرے وہیں سورج کی نظریں تھیں زیادہ جہاں تھے پیڑ سایہ دار میرے وہی یہ شہر ہے تو شہر والو کہاں ہیں کوچہ و بازار میرے تم اپنا حال مہجوری بتاؤ مجھے تو کھا گئے آزار ...

    مزید پڑھیے

    وقتی یہ حساب ظلم کب ہے

    وقتی یہ حساب ظلم کب ہے تاریخ کے حافظے میں سب ہے ہم پہلے بھی کم دکھی نہیں تھے یہ حال کبھی نہ تھا جو اب ہے جانوں کو لگا شدید آزار سنگین ہی کچھ اس کا سبب ہے وہ رت ہے نہ اب وہ ہم نوا ہیں اب نوحۂ خو گری ہی کار لب ہے احساس کے بند ٹوٹتے ہیں لیکن یہ شکستگی عجب ہے دل جلتا ہے کچھ کھلے بھی ...

    مزید پڑھیے

    آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا

    آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا اور وہ غم بھی مجھ کو اک دن دیکھتا رہ جائے گا سوچتا ہوں اشک حسرت ہی کروں نذر بہار پھر خیال آتا ہے میرے پاس کیا رہ جائے گا اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا آج اگر گھر میں یہی رنگ شب عشرت رہا لوگ سو جائیں گے ...

    مزید پڑھیے

    اسے ہم بھی بھول بیٹھے نہ کر اس کا ذکر تو بھی

    اسے ہم بھی بھول بیٹھے نہ کر اس کا ذکر تو بھی کوئی چاک اگر ہو ظاہر تو کریں اسے رفو بھی چلو چل کے پوچھ آئیں کہ خزاں کی اس گلی میں کبھی آ چکا ہو شاید کوئی سیل رنگ و بو بھی اڑی تشنگی کے کوچے میں وہ گرد اک طرف سے ہم اٹھا سکے نہ طاقوں سے گرے ہوئے سبو بھی ابھی کیسے بھول جاؤں میں یہ واقعہ ...

    مزید پڑھیے

    وہ حال ہے کہ تلاش نجات کی جائے

    وہ حال ہے کہ تلاش نجات کی جائے کسی فقیر دعا گو سے بات کی جائے یہ شہر کیسا خوش اوقات تھا اور اب کیا ہے جو دن بھی نکلے تو وحشت نہ رات کی جائے کوئی تو شکل گماں ہو کوئی تو حیلۂ خیر کسی طرح تو بسر اب حیات کی جائے گھروں میں وقت گزاری کا اب ہے شغل ہی کیا یہی کہ گفتگوئے حادثات کی ...

    مزید پڑھیے

    کسے دیکھتے کسے پوچھتے کہ ہم آپ کشتۂ حال تھے

    کسے دیکھتے کسے پوچھتے کہ ہم آپ کشتۂ حال تھے سر لب کچھ اور تھے مسئلے پس جاں کچھ اور سوال تھے جو لہولہان کیے گئے سر رہ جو مار دیئے گئے وہ شغال تو نہ تھے دشت کے مرے شہر ہی کے غزال تھے اٹھا پردہ روئے گماں سے جب تو کھلا عجب ہی طلسم شب وہ تمام چہرے بھی خواب تھے وہ سب آئنے بھی خیال ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5