لے چل اے عشق
یہ گلستاں یہ لب جو یہ پرندوں کے ہجوم پھول پر ٹوٹ کے بھونروں کا یہ رقص معصوم ان غریبوں کو مری وحشت دل کیا معلوم غم کا احساس یہاں بھی ہے بدستور مجھے لے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھے مطرب آسودگی ساز مجھے دیتا ہے ایک تسکین غم انداز مجھے دیتا ہے کوئی ہر نغمے سے آواز مجھے دیتا ...