نہیں گلوں کی جو کانٹوں کی اب خوشی ہے مجھے

نہیں گلوں کی جو کانٹوں کی اب خوشی ہے مجھے
کہ راستے میں یہ دولت پڑی ملی ہے مجھے


کچھ ایسی آگ سی محسوس ہو رہی ہے مجھے
کہیں کی بھڑکی ہوئی جیسے لگ گئی ہے مجھے


بہت میں سوچ چکا پھر بھی ایک سوچ میں ہوں
کہ جیسے اور بھی کچھ سوچنا ابھی ہے مجھے


رہ سفر میں ہے دور ایک ضو خدا جانے
یہ شہر سے کہ بیاباں سے تک رہی ہے مجھے


کلی کے دل پہ گئی ہے مری نظر جب سے
بہت عزیز کلی کی شگفتگی ہے مجھے


ہوس کے دور جنوں میں مرے لئے کیا ہے
چلو نصیب تو اک زخم آگہی ہے مجھے