Mahshar Badayuni

محشر بدایونی

محشر بدایونی کے تمام مواد

50 غزل (Ghazal)

    کوئی نہیں جو ہلکا کر دے بار سفر مجھ تنہا کا

    کوئی نہیں جو ہلکا کر دے بار سفر مجھ تنہا کا دوش پہ ہے امروز کا بوجھ اور سر پر قرض ہے فردا کا آندھی آئے تو اندیشہ طوفاں اٹھے تو تشویش ایک طرف سے صحرا کا قرب ایک طرف سے دریا کا کن زخموں کے ٹانکے ٹوٹے کن داغوں کے بند کھلے خون ہے رنگت شام و سحر کی آگ ہے موسم دنیا کا کوچے کے خاموش ...

    مزید پڑھیے

    یہ میں ہوں اور یہ اصنام میرے

    یہ میں ہوں اور یہ اصنام میرے انہیں جو نام دو سب نام میرے ہے ان کی روشنی مجھ سے بھی آگے میں اچھا مجھ سے اچھے کام میرے نہ کر تو بات مجھ سے موسموں کی یہ موسم صبح تیرے شام میرے دکان خواب میں چہرہ نگر ہوں کوئی شاید چکا دے دام میرے تمناؤں کے زخم ایذاؤں کے زخم یہی کچھ زخم ہیں انعام ...

    مزید پڑھیے

    نہ صحن و بام نہ دیوار و در پرانے ہیں

    نہ صحن و بام نہ دیوار و در پرانے ہیں اگر مکیں ہیں پرانے تو گھر پرانے ہیں سخاوتوں ہی کے دم سے ہے تازگی کا بھرم ثمر نہ دیں تو یقیناً شجر پرانے ہیں دل ایسی صورت تعمیر پر جمے کب تک تمام نقش ہی دیوار پر پرانے ہیں ہوا کی لہر ہے اب جس طرح بھی شہرت دے جنوں پرانا نہ آشفتہ سر پرانے ...

    مزید پڑھیے

    کیوں شہر اجاڑ سا پڑا تھا

    کیوں شہر اجاڑ سا پڑا تھا کیا سر پہ پہاڑ آ پڑا تھا قدرت تو گواہ ہے کہ میداں ہارے تھے کہ ہارنا پڑا تھا تھی برف سی رات اور لشکر بے خیمہ و بے ردا پڑا تھا کیا بھیڑ تھی کل اور آج دیکھا سنسان وہ راستہ پڑا تھا کیوں خیموں کی آگ بجھ گئی تھی یہ راکھ سے پوچھنا پڑا تھا وہ شام سکوت بھی عجب ...

    مزید پڑھیے

    کچھ لہو تو فروزاں ہمارا بھی ہے

    کچھ لہو تو فروزاں ہمارا بھی ہے شہر پر اتنا احساں ہمارا بھی ہے دیکھنا بخیۂ جامۂ وقت میں ایک تار گریباں ہمارا بھی ہے حق بیانوں کی خاطر ہے وسعت بڑی کچھ یہی خواب زنداں ہمارا بھی ہے وہ جو فرد وفا میں قلم زد ہوئے نام ان میں نمایاں ہمارا بھی ہے ہر کڑے وقت سے سہل گزرے مگر ان دنوں دل ...

    مزید پڑھیے

تمام

6 نظم (Nazm)

    لے چل اے عشق

    یہ گلستاں یہ لب جو یہ پرندوں کے ہجوم پھول پر ٹوٹ کے بھونروں کا یہ رقص معصوم ان غریبوں کو مری وحشت دل کیا معلوم غم کا احساس یہاں بھی ہے بدستور مجھے لے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھے مطرب آسودگی ساز مجھے دیتا ہے ایک تسکین غم انداز مجھے دیتا ہے کوئی ہر نغمے سے آواز مجھے دیتا ...

    مزید پڑھیے

    معذور بچے

    بچے ہیں ہم لعل و گہر کیا ہیں ہماری عظمتیں ہم باسلیقہ با ہنر معذور ہم کو مت کہو روشن ہیں مانند قمر مجبور ہم کو مت کہو ہر دم بلندی پر نظر خورشید ہم مہتاب ہم معذور ہم کو مت کہو شائستہ آداب ہم مجبور ہم کو مت کہو خدمت کا روشن باب ہم سادہ زباں شیریں سخن اندر سے ہیں شاداب ہم ہم ہیں امیدوں ...

    مزید پڑھیے

    زندگی

    میں زندگی ہوں زندگی یہ ہے مرا نام و نشاں جنبش دہ برگ و ثمر صورت گر شام و سحر جان و دل شمس و قمر صوت و نوائے بحر و بر ہے مجھ سے گردش میں زمیں مجھ سے ہے دور آسماں میں زندگی ہوں زندگی یہ ہے مرا نام و نشاں انعام یہ میرے لئے عیش و طرب میرے لئے ہیں روز و شب میرے لئے ہیں ایک سب میرے لئے مزدور ...

    مزید پڑھیے

    تاج محل

    اللہ میں یہ تاج محل دیکھ رہا ہوں یا پہلوئے جمنا میں کنول دیکھ رہا ہوں یہ شام کی زلفوں میں سمٹتے ہوئے انوار فردوس نظر تاج محل کے در و دیوار افلاک سے یا کاہکشاں ٹوٹ پڑی ہے یا کوئی حسینہ ہے کہ بے پردہ کھڑی ہے اس خاک سے پھوٹی ہے زلیخا کی جوانی یا چاہ سے نکلا ہے کوئی یوسف ...

    مزید پڑھیے

    گڈو میاں

    سنئے یہ ایک قصہ گڈو کی سادگی کا گڈو کے ماسٹر نے اک دن یہ اس سے پوچھا گڈو میاں تمہارے پاپا کا کیا ہے پیشہ پیشہ کا لفظ سن کر گڈو نہ کچھ بھی سمجھا آسان ڈھنگ سے پھر یوں ماسٹر نے پوچھا گڈو تمہارے فادر کا کیا ہے کام دھندا گڈو نے خامشی سے کچھ دیر تک تو سوچا پھر توتلی زباں میں آہستگی سے ...

    مزید پڑھیے

تمام