Mahshar Badayuni

محشر بدایونی

محشر بدایونی کی غزل

    کتنے دن حبس مسلسل میں بسر ہوتے ہیں

    کتنے دن حبس مسلسل میں بسر ہوتے ہیں بڑے اشعار بڑے غم کا ثمر ہوتے ہیں حکمت وقت بھی کرتی ہے عطا جن کو خراج میں اسی سوچ میں ہوں کیا وہ ہنر ہوتے ہیں مستقل بوجھ نہ ٹھہرائے سبھی کو یہ زمیں عزت خاک بھی کچھ خاک بسر ہوتے ہیں خالی شاخوں کا بھی ہوتا ہے بھلا کوئی مقام جو شجر چھاؤں بچھا دیں ...

    مزید پڑھیے

    دکھ سینے میں کس طاقت ایذا نے بھرے ہیں

    دکھ سینے میں کس طاقت ایذا نے بھرے ہیں گھر سیکڑوں خالی ہوئے ویرانے بھرے ہیں حیرت ہے کہ جو گردن قاتل پہ رہا ہے اس خون سے خود ہاتھ مسیحا نے بھرے ہیں پیاسوں کی تسلی کے لیے شور بہت ہے کچھ کوزوں کے نقصان بھی دریا نے بھرے ہیں خار و خس و خاشاک تصرف میں ہیں کس کے یہ اپنے ہی دامن ہیں جو ...

    مزید پڑھیے

    کم الجھتی ہے چراغوں سے ہوا میرے بعد

    کم الجھتی ہے چراغوں سے ہوا میرے بعد شہر میں شہر کا موسم نہ رہا میرے بعد میں نے جل کر نہ دیا مصلحت وقت کا ساتھ کیا خبر کون جلا کون بجھا میرے بعد سچ کی خاطر سر شعلہ بھی زباں رکھ دیتا بات یہ ہے کوئی مجھ سا نہ رہا میرے بعد ڈوبنا تھا سو میں اک موج میں پس ڈوب گیا اور دریا تھا کہ بہتا ہی ...

    مزید پڑھیے

    ایک بے نام سی دیوار ہے باہر میرے

    ایک بے نام سی دیوار ہے باہر میرے کون جانے جو نیا شہر ہے اندر میرے فن کے پیمانے سبک حرف کے کوزے نازک کیسے سمجھاؤں کہ کچھ دکھ ہیں سمندر میرے کوئی موسم ہو مری چھپ مرا رنگ اپنا ہے میری یہ وضع کہ بے وضع ہیں منظر میرے میرے ہی رخ کا عرق جوہر گل ہائے ہنر زرگری کام مرا زخم مقدر ...

    مزید پڑھیے

    دیوانوں پر ہاتھ نہ ڈالو اس ضد میں پچھتاؤ گے

    دیوانوں پر ہاتھ نہ ڈالو اس ضد میں پچھتاؤ گے سارے شہر میں کس کس کو تم زنجیریں پہناؤ گے کیا صحرا کی تپتی مٹی اپنا سر نہ اٹھائے گی تم تو یہ دیوار بڑھا کر صحرا تک لے جاؤ گے ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ تم مختار سریر کوہ بنو لیکن تم سے ملنا کیا ہے پتھر ہی برساؤ گے بزم آرائی اچھی لیکن ایسی ...

    مزید پڑھیے

    جو شخص اکیلا ہی بوجھل سفر سے آیا تھا

    جو شخص اکیلا ہی بوجھل سفر سے آیا تھا کسی نے پوچھا وہ لٹ کر کدھر سے آیا تھا یہ روشنی تو مری وحشتیں بڑھا گئی اور میں روشنی میں اندھیروں کے ڈر سے آیا تھا جسے کہیں بھی نہ ٹکنے دیا ہواؤں نے وہ برگ کچھ بھی تھا کٹ کر شجر سے آیا تھا جو سنگ اتنی حرارت لہو کو بخش گیا مجھے نوازنے میرے ہی ...

    مزید پڑھیے

    کتنی ریتوں میں دل الجھا رہ گیا

    کتنی ریتوں میں دل الجھا رہ گیا بڑھ گئے ہم اور زمانہ رہ گیا ختم کتنا کار دنیا کر چلے اور کتنا کار دنیا رہ گیا جل بجھے گھر اور فصیل شہر پر روشنی کا شہر لکھا رہ گیا میں اکیلا تھا صدا سن کر تم آئے دوستو میں پھر اکیلا رہ گیا چہرہ پوش اوجھل ہوئے بھڑکا کے آگ آنے والا گھر کو آتا رہ ...

    مزید پڑھیے

    تھا میں آخر اسی موسم کی فضا میں پہلے

    تھا میں آخر اسی موسم کی فضا میں پہلے اس قدر سوز نہ تھا میری نوا میں پہلے ہے اگر اس کی یہ حسرت کہ اسے سب دیکھیں شاہد چرخ ہو روپوش گھٹا میں پہلے خاک پوشوں کے بدن دیر میں لو دیتے ہیں آگ لگتی ہے کسی نرم قبا میں پہلے ہونٹ سینا بھی ہے اب فرض چلو یہ بھی سہی ایسی شرطیں نہ تھیں آداب وفا ...

    مزید پڑھیے

    طائر کے لیے دن رات کا ڈر

    طائر کے لیے دن رات کا ڈر دہلیز پہ رزق اور طاق میں گھر سب روزن زنداں بند ہوئے یا کچھ نہ رہا زنداں سے ادھر باہر یہ قدم نکلیں تو کھلے زنجیر مدد کرتی ہے کہ در مقتل کی زمیں سے پھول اگیں جاتا ہے کہیں مٹی کا اثر نیند آتی ہے اس کے سائے میں گر جائے یہ دیوار اگر ہم سوگ ہیں جاگے سپنوں ...

    مزید پڑھیے

    وہ ارزاں تو کریں جلوؤں کو دیوانے بھی آتے ہیں

    وہ ارزاں تو کریں جلوؤں کو دیوانے بھی آتے ہیں جہاں شمعیں جلا کرتی ہیں پروانے بھی آتے ہیں کچھ اس انداز سے آئے تری محفل میں دیوانے کوئی یہ کہہ تو دے محفل میں دیوانے بھی آتے ہیں یہ فطرت حسن کی ہے وہ تقاضا ہے محبت کا وہ دل کو توڑنے کے بعد سمجھانے بھی آتے ہیں سبھی صحن چمن میں پھول ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5