Mahshar Badayuni

محشر بدایونی

محشر بدایونی کی غزل

    کوئی نہیں جو ہلکا کر دے بار سفر مجھ تنہا کا

    کوئی نہیں جو ہلکا کر دے بار سفر مجھ تنہا کا دوش پہ ہے امروز کا بوجھ اور سر پر قرض ہے فردا کا آندھی آئے تو اندیشہ طوفاں اٹھے تو تشویش ایک طرف سے صحرا کا قرب ایک طرف سے دریا کا کن زخموں کے ٹانکے ٹوٹے کن داغوں کے بند کھلے خون ہے رنگت شام و سحر کی آگ ہے موسم دنیا کا کوچے کے خاموش ...

    مزید پڑھیے

    یہ میں ہوں اور یہ اصنام میرے

    یہ میں ہوں اور یہ اصنام میرے انہیں جو نام دو سب نام میرے ہے ان کی روشنی مجھ سے بھی آگے میں اچھا مجھ سے اچھے کام میرے نہ کر تو بات مجھ سے موسموں کی یہ موسم صبح تیرے شام میرے دکان خواب میں چہرہ نگر ہوں کوئی شاید چکا دے دام میرے تمناؤں کے زخم ایذاؤں کے زخم یہی کچھ زخم ہیں انعام ...

    مزید پڑھیے

    نہ صحن و بام نہ دیوار و در پرانے ہیں

    نہ صحن و بام نہ دیوار و در پرانے ہیں اگر مکیں ہیں پرانے تو گھر پرانے ہیں سخاوتوں ہی کے دم سے ہے تازگی کا بھرم ثمر نہ دیں تو یقیناً شجر پرانے ہیں دل ایسی صورت تعمیر پر جمے کب تک تمام نقش ہی دیوار پر پرانے ہیں ہوا کی لہر ہے اب جس طرح بھی شہرت دے جنوں پرانا نہ آشفتہ سر پرانے ...

    مزید پڑھیے

    کیوں شہر اجاڑ سا پڑا تھا

    کیوں شہر اجاڑ سا پڑا تھا کیا سر پہ پہاڑ آ پڑا تھا قدرت تو گواہ ہے کہ میداں ہارے تھے کہ ہارنا پڑا تھا تھی برف سی رات اور لشکر بے خیمہ و بے ردا پڑا تھا کیا بھیڑ تھی کل اور آج دیکھا سنسان وہ راستہ پڑا تھا کیوں خیموں کی آگ بجھ گئی تھی یہ راکھ سے پوچھنا پڑا تھا وہ شام سکوت بھی عجب ...

    مزید پڑھیے

    کچھ لہو تو فروزاں ہمارا بھی ہے

    کچھ لہو تو فروزاں ہمارا بھی ہے شہر پر اتنا احساں ہمارا بھی ہے دیکھنا بخیۂ جامۂ وقت میں ایک تار گریباں ہمارا بھی ہے حق بیانوں کی خاطر ہے وسعت بڑی کچھ یہی خواب زنداں ہمارا بھی ہے وہ جو فرد وفا میں قلم زد ہوئے نام ان میں نمایاں ہمارا بھی ہے ہر کڑے وقت سے سہل گزرے مگر ان دنوں دل ...

    مزید پڑھیے

    اتنی قیمت شام سفر دوں یہ نہیں ہوگا

    اتنی قیمت شام سفر دوں یہ نہیں ہوگا اپنے چراغ کو خود گل کر دوں یہ نہیں ہوگا اب تو میری کل توقیر شجر ہے آدھا برق کو یہ آدھا بھی شجر دوں یہ نہیں ہوگا ہجر کو پس اندازہ کیا ہے موسم موسم عمر کی محنت غارت کر دوں یہ نہیں ہوگا جاؤں جو اس کے در پر دامن جاں پھیلائے وہ پتھر دے اور میں سر دوں ...

    مزید پڑھیے

    کسی تھکن کو سخن بنا لوں بھی بہت ہے

    کسی تھکن کو سخن بنا لوں یہی بہت ہے میں چند فرصت کے پل بچا لوں یہی بہت ہے ہنر کا حق تو ہوا کی بستی میں کون دے گا ادھر میں اپنا دیا جلا لوں یہی بہت ہے یہ ہجر کے زخم بھی بڑے لالہ کار دل ہیں میں گھر کے رنگوں سے گھر سجا لوں یہی بہت ہے وہ عارفان سبق کہاں اب جو دل بڑھائیں میں سچ لکھوں حرف ...

    مزید پڑھیے

    سفیر فن تھے سو تصویر کر دئیے گئے ہم

    سفیر فن تھے سو تصویر کر دئیے گئے ہم پھر ایک خواب سے تعبیر کر دئیے گئے ہم ہم اک خیال تھے فردوس ہم خیالاں کا سو اک خرابے میں تعمیر کر دیئے گئے ہم سوالیان سیہ بخت کی طرح تہ تیغ بنام عدل جہانگیر کر دیئے گئے ہم شہید کر کے بھی موسم نے کب رہائی دی شجر کی شاخ میں زنجیر کر دیئے گئے ہم ہم ...

    مزید پڑھیے

    ہمارے ہاتھ تھے سورج نئے جہانوں کے

    ہمارے ہاتھ تھے سورج نئے جہانوں کے سو اب زمینوں کے ہم ہیں نہ آسمانوں کے ہزار گرد لگا لیں قد آور آئینے حسب نسب بھی تو ہوتے ہیں خاندانوں کے حروف بیں تو سبھی ہیں مگر کسے یہ شعور کتاب پڑھتی ہے چہرے کتاب خوانوں کے یہ کیا ضرور کہ ناموں کے ہم مزاج ہوں لوگ بہار اور خزاں نام ہیں زمانوں ...

    مزید پڑھیے

    مرا تو وقت گھر سے کوچ ہی کا ہے

    مرا تو وقت گھر سے کوچ ہی کا ہے سوال سارے گھر کی زندگی کا ہے یہاں تو دوستی نبھے نہ دشمنی زمیں ہے جس کی آسماں اسی کا ہے ترس نہ جائے رقص و رم کو بھی کہیں وہ دشت جس پہ سایہ آدمی کا ہے جو دن نہ گزرے وہ بھی دن گزارنا ہمارا کیا یہ سانحہ سبھی کا ہے یہ امتحاں گراں ہے اور بہت گراں مگر یہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5