Mahmood Shahid

محمود شاہد

محمود شاہد کی غزل

    مری مٹھی میں مٹی ہے محبت کی

    مری مٹھی میں مٹی ہے محبت کی یہ دولت کائناتی ہے محبت کی میں پتھر کو بدل دیتا ہوں ریشم میں مرے ہاتھوں میں نرمی ہے محبت کی تمہیں دیکھوں تو نفرت سے نہیں فرصت مجھے دیکھو تو جلدی ہے محبت کی چراغ دل کبھی بجھتا نہیں میرا مزاج خوں میں گرمی ہے محبت کی رگ و پے میں اترتا ہے عجب نشہ تری ...

    مزید پڑھیے

    حد افق زمین پر دھواں دھواں

    حد افق زمین پر دھواں دھواں حجر حجر بشر بشر دھواں دھواں جگہ جگہ قیامتوں کا رقص ہے گلی گلی ادھر ادھر دھواں دھواں عجیب تر ہیں موسموں کی گردشیں ثمر ثمر شجر شجر دھواں دھواں نہ صورتیں نہ منظروں کا سلسلہ سحر سحر کثیف تر دھواں دھواں نہ تاب ہے نہ آب ہے نہ رنگ ہے نگاہ میں گہر گہر دھواں ...

    مزید پڑھیے

    ایک زنجیر ہے سلسلہ جسم کا

    ایک زنجیر ہے سلسلہ جسم کا ختم ہوتا نہیں رابطہ جسم کا جذبۂ ناتواں کو میسر نہیں مانگتا ہے لہو ذائقہ جسم کا لمحہ لمحہ عجب کیفیت موجزن تجربوں سے جدا تجربہ جسم کا دست و پا چاندنی چشم و لب چاندنی صاف و شفاف ہے آئینہ جسم کا باعث قربت رشتۂ جان و دل فرد اور فرد سے رابطہ جسم کا تنہا ...

    مزید پڑھیے

    ہو گیا ہے خون ٹھنڈا آگ دو

    ہو گیا ہے خون ٹھنڈا آگ دو ایک تازہ ایک زندہ آگ دو لمحہ لمحہ کانپتا ہے میرا دل رات کالی خوف گہرا آگ دو سانس لینا کس قدر دشوار ہے منجمد ہے میرا سینہ آگ دو دست و پا کو صبح تک رکھنا ہے گرم سرد صحرا سرد خیمہ آگ دو بادلوں سے آسماں آلود ہے اور سمندر برف آسا آگ دو بستیوں نے اوڑھ رکھا ...

    مزید پڑھیے

    کہانی کی کہانی ہو گیا ہوں

    کہانی کی کہانی ہو گیا ہوں طوالت میں مثالی ہو گیا ہوں یہ بستی میری خاطر اجنبی تھی کہ صدیوں میں مقامی ہو گیا ہوں غرض کوئی نہیں دنیا سے مجھ کو میں صد فیصد کتابی ہو گیا ہوں مقابل جو بھی انساں ہے عدو ہے میں سرحد کا سپاہی ہو گیا ہوں میں جبراً کاٹ لیتا ہوں لب اس کے محبت میں فسادی ہو ...

    مزید پڑھیے

    بے شکل شباہت ہے بے ربط سراپا ہے

    بے شکل شباہت ہے بے ربط سراپا ہے جذبات بھی جامد ہیں احساس بھی تشنہ ہے بہتا ہوا دریا ہے اٹھتی ہوئی موجیں ہیں صدیوں کی مسافت میں لمحوں کا تماشا ہے تہذیب کا سناٹا ساکن ہے یہاں شاید ویران حویلی کی دہلیز پہ پردہ ہے الجھے ہوئے انساں کی تصویر بھی الجھی ہے آنکھوں میں اندھیرا ہے چہرہ ...

    مزید پڑھیے

    پابندیاں ہیں میرے ہی اظہار پر

    پابندیاں ہیں میرے ہی اظہار پر زاغ و زغن کا شور ہے مردار پر تاثیر ہے کس کے لہو کو دیکھیے سبزہ اگا ہے آہنی تلوار پر دل کش حسیں پوشاک ہو یا جسم ہو مرکوز ہے میری نظر بازار پر میرے لئے کوئی خبر آتی نہیں اور سامنے اخبار ہے اخبار پر موسم عجب حالات سے دو چار ہے بادل نہیں طائر نہیں ...

    مزید پڑھیے

    مسافر ہوں مسافت چاہتا ہوں

    مسافر ہوں مسافت چاہتا ہوں سفر کی رہ میں شدت چاہتا ہوں بہت یکسانیت ہے روز و شب میں میں فطرت سے بغاوت چاہتا ہوں کوئی آئے مجھے شرمندہ کر دے میں احساس ندامت چاہتا ہوں مجھے اپنی ہی صورت دیکھنی ہے بس اک لمحہ کی فرصت چاہتا ہوں عجب سنجیدگی ماحول میں ہے میں تھوڑی سی شرارت چاہتا ...

    مزید پڑھیے

    ترے بیاں میں حوالہ نہیں تو کچھ بھی نہیں

    ترے بیاں میں حوالہ نہیں تو کچھ بھی نہیں مرے وجود کا قصہ نہیں تو کچھ بھی نہیں وہی سراپا وہی خال و خد وہی قامت نیا بدن نیا چہرہ نہیں تو کچھ بھی نہیں فلک کی سمت فقط دیکھنے سے کیا ہوگا تری نگاہ میں زینہ نہیں تو کچھ بھی نہیں اندھیروں اور اجالوں کا رقص باہم ہے یہ روز و شب کا تماشہ ...

    مزید پڑھیے