ترے بیاں میں حوالہ نہیں تو کچھ بھی نہیں

ترے بیاں میں حوالہ نہیں تو کچھ بھی نہیں
مرے وجود کا قصہ نہیں تو کچھ بھی نہیں


وہی سراپا وہی خال و خد وہی قامت
نیا بدن نیا چہرہ نہیں تو کچھ بھی نہیں


فلک کی سمت فقط دیکھنے سے کیا ہوگا
تری نگاہ میں زینہ نہیں تو کچھ بھی نہیں


اندھیروں اور اجالوں کا رقص باہم ہے
یہ روز و شب کا تماشہ نہیں تو کچھ بھی نہیں


شعور تیرہ زدہ اور منجمد احساس
دماغ و دل میں دریچہ نہیں تو کچھ بھی نہیں


زمیں پہ تیری حکومت ہے کو بہ کو لیکن
دلوں میں تیرا علاقہ نہیں تو کچھ بھی نہیں


نہ سر پہ گرد نہ چھالے ہیں پاؤں میں شاہدؔ
ترے سفر کا نتیجہ نہیں تو کچھ بھی نہیں