Mahmood Shahid

محمود شاہد

محمود شاہد کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    مری مٹھی میں مٹی ہے محبت کی

    مری مٹھی میں مٹی ہے محبت کی یہ دولت کائناتی ہے محبت کی میں پتھر کو بدل دیتا ہوں ریشم میں مرے ہاتھوں میں نرمی ہے محبت کی تمہیں دیکھوں تو نفرت سے نہیں فرصت مجھے دیکھو تو جلدی ہے محبت کی چراغ دل کبھی بجھتا نہیں میرا مزاج خوں میں گرمی ہے محبت کی رگ و پے میں اترتا ہے عجب نشہ تری ...

    مزید پڑھیے

    حد افق زمین پر دھواں دھواں

    حد افق زمین پر دھواں دھواں حجر حجر بشر بشر دھواں دھواں جگہ جگہ قیامتوں کا رقص ہے گلی گلی ادھر ادھر دھواں دھواں عجیب تر ہیں موسموں کی گردشیں ثمر ثمر شجر شجر دھواں دھواں نہ صورتیں نہ منظروں کا سلسلہ سحر سحر کثیف تر دھواں دھواں نہ تاب ہے نہ آب ہے نہ رنگ ہے نگاہ میں گہر گہر دھواں ...

    مزید پڑھیے

    ایک زنجیر ہے سلسلہ جسم کا

    ایک زنجیر ہے سلسلہ جسم کا ختم ہوتا نہیں رابطہ جسم کا جذبۂ ناتواں کو میسر نہیں مانگتا ہے لہو ذائقہ جسم کا لمحہ لمحہ عجب کیفیت موجزن تجربوں سے جدا تجربہ جسم کا دست و پا چاندنی چشم و لب چاندنی صاف و شفاف ہے آئینہ جسم کا باعث قربت رشتۂ جان و دل فرد اور فرد سے رابطہ جسم کا تنہا ...

    مزید پڑھیے

    ہو گیا ہے خون ٹھنڈا آگ دو

    ہو گیا ہے خون ٹھنڈا آگ دو ایک تازہ ایک زندہ آگ دو لمحہ لمحہ کانپتا ہے میرا دل رات کالی خوف گہرا آگ دو سانس لینا کس قدر دشوار ہے منجمد ہے میرا سینہ آگ دو دست و پا کو صبح تک رکھنا ہے گرم سرد صحرا سرد خیمہ آگ دو بادلوں سے آسماں آلود ہے اور سمندر برف آسا آگ دو بستیوں نے اوڑھ رکھا ...

    مزید پڑھیے

    کہانی کی کہانی ہو گیا ہوں

    کہانی کی کہانی ہو گیا ہوں طوالت میں مثالی ہو گیا ہوں یہ بستی میری خاطر اجنبی تھی کہ صدیوں میں مقامی ہو گیا ہوں غرض کوئی نہیں دنیا سے مجھ کو میں صد فیصد کتابی ہو گیا ہوں مقابل جو بھی انساں ہے عدو ہے میں سرحد کا سپاہی ہو گیا ہوں میں جبراً کاٹ لیتا ہوں لب اس کے محبت میں فسادی ہو ...

    مزید پڑھیے

تمام