مسافر ہوں مسافت چاہتا ہوں

مسافر ہوں مسافت چاہتا ہوں
سفر کی رہ میں شدت چاہتا ہوں


بہت یکسانیت ہے روز و شب میں
میں فطرت سے بغاوت چاہتا ہوں


کوئی آئے مجھے شرمندہ کر دے
میں احساس ندامت چاہتا ہوں


مجھے اپنی ہی صورت دیکھنی ہے
بس اک لمحہ کی فرصت چاہتا ہوں


عجب سنجیدگی ماحول میں ہے
میں تھوڑی سی شرارت چاہتا ہوں


کہانی در کہانی در کہانی
میں قصہ میں طوالت چاہتا ہوں


نہ اپنوں سے نہ ہی غیروں سے شاہدؔ
میں خود سے ہی عداوت چاہتا ہوں