ایک زنجیر ہے سلسلہ جسم کا

ایک زنجیر ہے سلسلہ جسم کا
ختم ہوتا نہیں رابطہ جسم کا


جذبۂ ناتواں کو میسر نہیں
مانگتا ہے لہو ذائقہ جسم کا


لمحہ لمحہ عجب کیفیت موجزن
تجربوں سے جدا تجربہ جسم کا


دست و پا چاندنی چشم و لب چاندنی
صاف و شفاف ہے آئینہ جسم کا


باعث قربت رشتۂ جان و دل
فرد اور فرد سے رابطہ جسم کا


تنہا عریاں بدن اور وحشی زغن
خوف انگیز ہے واقعہ جسم کا


میری آنکھوں میں شاہدؔ ٹھہرتا نہیں
کتنا پر پیچ ہے زاویہ جسم کا