زندگی جس سے جاگتی ہے ابھی

زندگی جس سے جاگتی ہے ابھی
وہ کہانی تو ان کہی ہے ابھی


راہ میں اور بھی میں کوہ گراں
ایک دیوار ہی گری ہے ابھی


جنبش لب ہی بن گئی طوفاں
سینکڑوں حرف گفتنی ہے ابھی