زندگی جس سے جاگتی ہے ابھی محمود شام 07 ستمبر 2020 شیئر کریں زندگی جس سے جاگتی ہے ابھی وہ کہانی تو ان کہی ہے ابھی راہ میں اور بھی میں کوہ گراں ایک دیوار ہی گری ہے ابھی جنبش لب ہی بن گئی طوفاں سینکڑوں حرف گفتنی ہے ابھی