ترغیب
چلمنوں کے اس طرف جگمگاتی زندگی سامنے آ کر نقاب رخ کو سرکاتی ہوئی مجھ سے ہنس کر کہہ رہی ہے میرا دامن تھام لے ڈوبتے تارے نمود صبح سے سہمے ہوئے ملگجی دھندلاہٹوں میں جھلملا کر کھو گئے جاگتی آنکھوں میں اک گزری ہوئی دنیا لیے اس طرف میں ہوں مرے ماضی کی بڑھتی دھند ہے دھندلے دھندلے نقش ...