Mahmood Ayaz

محمود ایاز

اپنے ادبی رسالے ’سوغات‘ کے لیے معروف

Famous for his path-breaking literary magazine Saughaat.

محمود ایاز کی نظم

    ترغیب

    چلمنوں کے اس طرف جگمگاتی زندگی سامنے آ کر نقاب رخ کو سرکاتی ہوئی مجھ سے ہنس کر کہہ رہی ہے میرا دامن تھام لے ڈوبتے تارے نمود صبح سے سہمے ہوئے ملگجی دھندلاہٹوں میں جھلملا کر کھو گئے جاگتی آنکھوں میں اک گزری ہوئی دنیا لیے اس طرف میں ہوں مرے ماضی کی بڑھتی دھند ہے دھندلے دھندلے نقش ...

    مزید پڑھیے

    اسپتال کا کمرہ

    تمام شب کی دکھن، بے کلی، سبک خوابی نمود صبح کو درماں سمجھ کے کاٹی ہے رگوں میں دوڑتے پھرتے لہو کی ہر آہٹ اجل گرفتہ خیالوں کو آس دیتی ہے مگر وہ آنکھ جو سب دیکھتی ہے ہنستی ہے افق سے صبح کی پہلی کرن ابھرتی ہے تمام رات کی فریاد اک سکوت میں چپ تمام شب کی دکھن، بے کلی، سبک خوابی حریری ...

    مزید پڑھیے

    این نکتہ کہ ہستم من

    تم نے مجھ سے کوئی اقرار‌‌ رفاقت نہ کیا یہ نہ کہا تم سے بچھڑ جاؤں تو زندہ نہ رہوں میں نے تمہیں زیست کا سرمایہ مرا حاصل یک عمر‌ تمنا نہ کہا اس قدر جھوٹ سے دہشت زدہ تھے ہم کہ کوئی سچ نہ کہا میں نے بس اتنا کہا دیکھو ہم اور تم اس آگ کا حصہ ہیں جو خاشاک کی مانند جلاتی ہے ہمیں تم نے بس ...

    مزید پڑھیے

    نالہ سرمایۂ یک عالم

    کوئی بھولی ہوئی صورت کوئی بسرا ہوا خواب شب کے سناٹے میں کھلنے لگے احساس کے باب کوئی نغمہ مری خاموش محبت کے رباب یہ امیدوں کی کشاکش یہ تمناؤں کے جال جانے کس راہ سے گزرے گی امیدوں کی برات فاصلے بڑھتے گئے شوق سبک گام کے ساتھ تو ہی بول اے مری محرومی کی بڑھتی ہوئی رات کتنی دور اور ہے ...

    مزید پڑھیے

    دوزخ

    موج صہبا میں تمنا کے سفینے کھو کر نغمہ و رقص کی محفل سے جو گھبرا کے اٹھا ایک ہنستی ہوئی گڑیا نے اشارے سے کہا تم جو چاہو تو میں شب بھر کی رفاقت بخشوں جنبش ابرو نے الفاظ کی زحمت بھی نہ دی نیم وا آنکھوں میں اک دعوت خاموش لیے یوں سمٹ کر مری آغوش میں آئی جیسے بھری دنیا میں بس اک گوشۂ ...

    مزید پڑھیے

    ایک نظم

    گم شدہ خواب شب رفتہ کے روشن مہتاب آج کی رات سر بام اتر آئے ہیں گم شدہ چہرے مرے ماضی کے زریں اوراق ایک اک کر کے سر عام کھلے جاتے ہیں مجھ سے کچھ کہتی ہیں خاموش نگاہیں ان کی ان کی آنکھوں میں ابھی تک ہے وفا کی تنویر ان کے ماتھے پہ ابھی تک ہے وہی تابانی ان کے پیروں میں نہیں عمر رواں کی ...

    مزید پڑھیے

    آخری رات

    قریب آخر شب ہے مرے گلے لگ جاؤ وداع شام طرب ہے مرے گلے لگ جاؤ اب ایک عمر جدائی کے فاصلے ہوں گے بس ایک وقفۂ شب ہے مرے گلے لگ جاؤ گلہ گزار زمانہ ہوں تم خفا کیوں ہو گلہ تو حسن طلب ہے مرے گلے لگ جاؤ تمام عمر جو رہ رہ کے یاد آئے گی یہی وہ ساعت شب ہے مرے گلے لگ جاؤ دیار غیر میں تم کو کہاں ...

    مزید پڑھیے

    نیا سفر

    تعلقات کا افسوں کدورتوں کا غبار دلوں کا بغض، محبت کے دائروں کا حصار مسرتوں کا ہر اک رنگ، غم کا ہر لمحہ گزرتی موج کے مانند ابھر کے ڈوب گیا خلوص و مہر و عداوت کی ساری زنجیریں پلک جھپکنے کی مہلت میں جل کے راکھ ہوئیں نہ کٹنے والے کٹھن دن خیال و خواب ہوئے نہ آنے والے جو دن تھے وہ آ کے ...

    مزید پڑھیے

    شب چراغ

    بسوں کا شور دھواں گرد دھوپ کی شدت بلند و بالا عمارات سرنگوں انساں تلاش رزق میں نکلا ہوا یہ جم غفیر لپکتی بھاگتی مخلوق کا یہ سیل رواں ہر اک کے سینے میں یادوں کی منہدم قبریں ہر ایک اپنی ہی آواز پا سے رو گرداں یہ وہ ہجوم ہے جس میں کوئی فلک پہ نہیں اور اس ہجوم سر راہ سے گزرتے ہوئے نہ ...

    مزید پڑھیے

    منجمد آنکھیں

    کھلی آنکھوں کو کوئی بند کر دو کھلی آنکھوں کی ویرانی سے ہول آتا ہے کوئی ان کھلی آنکھوں کو بڑھ کر بند کر دو یہ آنکھیں اک انوکھی یخ زدہ دنیا کی ساکت روشنی میں کھو گئی ہیں اب ان آنکھوں میں کوئی رنگ پیدا ہے نہ کوئی رنگ پنہاں ہے نہ کوئی عکس گلبن ہے نہ کوئی داغ حرماں ہے نہ گنج شائگاں کی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2