Mahmood Ayaz

محمود ایاز

اپنے ادبی رسالے ’سوغات‘ کے لیے معروف

Famous for his path-breaking literary magazine Saughaat.

محمود ایاز کی نظم

    اے جوئے آب

    تمام عمر کے سود و زیاں کا بار لیے؟ ہر انقلاب زمانہ سے منہ چھپائے ہوئے حیات و مرگ کی سرحد پہ نیم خوابیدہ میں منتظر تھا مسرت کی کوئی دھندلی کرن زماں مکاں سے پرے اجنبی جزیروں سے دم سحر مجھے خوابوں میں ڈھونڈتی آئے فشار وقت کی سرحد سے دور لے جائے کھلی جو آنکھ طلوع سحر نے ہنس کے ...

    مزید پڑھیے

    بازیافت

    گزرے ہوئے ماہ و سال کے غم تنہائی شب میں جاگ اٹھے ہیں عمر رفتہ کی جستجو میں اشکوں کے چراغ جل رہے ہیں آسائش زندگی کی حسرت ماضی کا نقش بن چکی ہے حالات کی ناگزیر تلخی ایک ایک نفس میں بس گئی ہے ناکامئ آرزو کو دل نے تسلیم و رضا کے نام بخشے ملنے کی خوشی، بچھڑنے کا غم کیا کیا تھے فریب ...

    مزید پڑھیے

    بازگشت

    خامشی رینگتی ہے راہوں پر ایک افسوں بہ دوش خواب لیے رات رک رک کے سانس لیتی ہے اپنی ظلمت کا بوجھ اٹھائے ہوئے مضمحل چاند کی شعاعوں میں بیتے لمحوں کی یاد رقصاں ہے جانے کن ماہ و سال کا سایہ وقت کی آہٹوں پہ لرزاں ہے ایک یاد اک تصور رفتہ سینۂ ماہ سے ابھرتا ہے ہے یہ سرشاریٔ حیات کا ...

    مزید پڑھیے

    پہلی موت

    رات بھر نرم ہواؤں کے جھونکے وقت کی موج رواں پر بہتے تیری یادوں کے سفینے لائے کہ جزیروں سے نکل کر آئے گزرا وقت کا دامن تھامے تری یادیں ترے غم کے سائے ایک اک حرف وفا کی خوشبو موجۂ گل میں سمٹ کر آئے ایک اک عہد وفا کا منظر خواب کی طرح گزرتے بادل تیری قربت کے مہکتے ہوئے پل میرے دامن سے ...

    مزید پڑھیے

    نوحہ

    سیہ رات میں ٹمٹماتے ستاروں کے نیچے خروشاں سمندر کی موجیں تجھے ڈھونڈھتی ہیں خروشاں ہوا کی صداؤں میں تیری صدا ہے مرا دل تجھے ڈھونڈھتا ہے سیہ رات اشکوں کی شبنم میں سوئی ہوئی ہے ہر اک پل ہر اک لمحہ ماضی کا زندہ ہے موجود میں جاگتا ہے مگر تیرا پیکر تہ خاک اندھیروں کے مامن میں سویا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    یا خدا

    سارے افکار و عقائد کے طلسم سارے اصنام خیال ہم نے وہ بت شکنی کی ہے کہ مسمار ہیں سب اپنے گھر بار کی محفوظ فصیلیں ہم نے یوں گرائی ہیں کہ اب دور و نزدیک کی ہر تند ہوا سب چراغوں کو بس اک پھونک میں گل کر جائے ہم کہ ہر سلسلہ و قید کی زنجیر سے آزاد ہوئے ایسے مجلس کے مکیں ہیں کہ جہاں کوئی ...

    مزید پڑھیے

    مرنے والے کے کمرے میں

    یوں رگ و پے میں اجل اتری ہے ہاتھ ساکت ہیں دعا کیا مانگیں آنکھ خاموش ہے، کیا دیکھے گی ہونٹ خوابیدہ ہیں کیا بولیں گے ایک سناٹا ابد تا بہ ابد جہد یک عمر کا حاصل ٹھہرے درد کا شعلہ رگ جاں کا لہو جنس بے مایہ تھے بے مایہ رہے تیرہ خاک ان کی خریدار بنے نکہت گل کی طرح آوارہ بوئے جاں، وسعت ...

    مزید پڑھیے

    سحر ہونے تک

    لرزتے سایوں سے مبہم نقوش ابھرتے ہیں اک ان کہی سی کہانی، اک ان سنی سی بات طویل رات کی خاموشیوں میں ڈھلتی ہے فسردہ لمحے خلاؤں میں رنگ بھرتے ہیں صدائیں ذہن کی پنہائیوں میں گونجتی ہیں ''خزاں کے سائے جھلکتے ہیں تیری آنکھوں میں تری نگاہوں میں رفتہ بہاروں کا غم ہے'' حیات خواب گہوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2