پلک جھپکتے میں کٹتے ہیں روز و شب مہ و سال (ردیف .. ے)
پلک جھپکتے میں کٹتے ہیں روز و شب مہ و سال جو فاصلے تھے من و تو کے درمیاں نہ رہے وفا رفاقت یک عمر کچھ نہیں لیکن یہ چاہتا ہوں کہ روؤں بہت گلے مل کے مصاف زیست میں وہ رن پڑا ہے آج کے دن نہ میں تمہاری تمنا ہوں اور نہ تم میرے رفیق و یار کہاں اے حجاب تنہائی بس اپنے چہرے کو تکتا ہوں آئینہ ...