Mahmood Ayaz

محمود ایاز

اپنے ادبی رسالے ’سوغات‘ کے لیے معروف

Famous for his path-breaking literary magazine Saughaat.

محمود ایاز کی غزل

    پلک جھپکتے میں کٹتے ہیں روز و شب مہ و سال (ردیف .. ے)

    پلک جھپکتے میں کٹتے ہیں روز و شب مہ و سال جو فاصلے تھے من و تو کے درمیاں نہ رہے وفا رفاقت یک عمر کچھ نہیں لیکن یہ چاہتا ہوں کہ روؤں بہت گلے مل کے مصاف زیست میں وہ رن پڑا ہے آج کے دن نہ میں تمہاری تمنا ہوں اور نہ تم میرے رفیق و یار کہاں اے حجاب تنہائی بس اپنے چہرے کو تکتا ہوں آئینہ ...

    مزید پڑھیے

    چشم مشتاق نے یہ خواب عجب دیکھے ہیں

    چشم مشتاق نے یہ خواب عجب دیکھے ہیں دل کے آئینے میں سو عکس ہیں سب تیرے ہیں زندگی سے بھی نباہیں تجھے اپنا بھی کہیں اس کشاکش میں شب و روز گزر جاتے ہیں خانۂ دل میں تھا کیا کیا نہ امیدوں کا ہجوم خانہ ویراں ہے تو راضی بہ رضا بیٹھے ہیں دولت غم بھی خس و خاک زمانہ میں گئی تم گئے ہو تو مہ و ...

    مزید پڑھیے

    دن کو کار دراز دہر رہا (ردیف .. ی)

    دن کو کار دراز دہر رہا رات خوابوں کی وادیوں میں کٹی چاند خاموش جا رہا تھا کہیں ہم نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی ساعت دید تیری عمر ہی کیا ابھی آئی نہ تھی کہ بیت گئی برگ آوارہ سے کوئی پوچھے بوئے گل کس کی جستجو میں گئی کس کا نغمہ ہے دل کی دھڑکن میں کس کی آواز پا سکوت بنی

    مزید پڑھیے

    کرشمہ ساز ازل کیا طلسم باندھا ہے

    کرشمہ ساز ازل کیا طلسم باندھا ہے پریدہ رنگ ہے ہر نقش پھر بھی پیارا ہے تو رو بہ رو ہو تو اے روئے یار تجھ سے کہیں وہ حرف غم کہ حریف غم زمانہ ہے کبھی تو ہم پہ اٹھے چشم آشنا کی طرح وہ اک نگاہ کہ صد گردش زمانہ ہے ہماری آنکھوں سے نیرنگئ جہاں دیکھو ہماری آنکھوں میں اک عمر صد تماشا ...

    مزید پڑھیے

    غم دل ہمرہی کرے نہ کرے

    غم دل ہمرہی کرے نہ کرے انجم صبح ہم تو ڈوب چلے خامشی کس کے نقش پا پہ مٹی راستے کس کو ڈھونڈنے نکلے چاند تارے بھی شب گزیدہ ہیں سر مژگاں کوئی چراغ جلے پاس تھی منزل مراد مگر ہم غم رفتگاں کے ساتھ رہے شمع شب تاب ایک رات جلی جلنے والے تمام عمر جلے

    مزید پڑھیے

    یہ شہر شہر کی آبادیاں فنا کی طرف (ردیف .. ا)

    یہ شہر شہر کی آبادیاں فنا کی طرف یہ جیتی جاگتی آنکھوں میں وحشت صحرا محبتوں کے بسیرے نہیں مکانوں میں ہمکتے بچوں پہ آسیب وقت کا سایا بلائے روز جزا ٹل گئی سروں سے مگر دلوں کی تہہ میں دھڑکتی ہے ہیبت فردا ہوس وہ کاسۂ سائل کہ ہر نفس خالی بہم ہے دولت کونین دل تہی مایہ یہ میرے عہد کی ...

    مزید پڑھیے

    خدا شناس بہت ہم بھی تھے مگر اب کے

    خدا شناس بہت ہم بھی تھے مگر اب کے وہ مار دل پہ پڑی ہے خدا کو بھول گئے بس ایک چشم زدن میں گزر گئی دنیا بڑے جتن تھے اسی عمر یک نفس کے لیے وہ شکل سامنے رہتی ہے کچھ نہیں کہتی ترس گیا ہوں بہت لذت سخن کے لیے فراق دیدہ و جاں دل سمجھ نہیں پاتا فرار دیدہ و دل تو ہی اب تسلی دے

    مزید پڑھیے

    کروڑوں سال کا دیکھا ہوا تماشا ہے

    کروڑوں سال کا دیکھا ہوا تماشا ہے یہ رقص زیست کہ بے قصد و بے ارادہ ہے عجیب موج سبک سیر تھی ہوائے جہاں گزر گئی تو کوئی نقش ہے نہ جادہ ہے نشاط لمحہ کی وہ قیمتیں چکائی ہیں کہ اب ذرا سی مسرت پہ دل لرزتا ہے اکیلا میں ہی نہیں اے تماشہ گاہ جہاں جو سب کو دیکھ رہا ہے وہ خود بھی تنہا ہے اسی ...

    مزید پڑھیے

    لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو

    لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو ہوش والے ہو تو ہر بات کو سمجھا نہ کرو وہ نہیں ہے نہ سہی ترک تمنا نہ کرو دل اکیلا ہے اسے اور اکیلا نہ کرو بند آنکھوں میں ہیں نادیدہ زمانے پیدا کھلی آنکھوں ہی سے ہر چیز کو دیکھا نہ کرو دن تو ہنگامۂ ہستی میں گزر جائے گا صبح تک شام کو افسانہ در ...

    مزید پڑھیے

    حیرت جلوہ مقدر ہے تو جلوا کیا ہے

    حیرت جلوہ مقدر ہے تو جلوا کیا ہے تجھ سے وابستہ ہے دل ورنہ تماشا کیا ہے کوئی دن اور غم ہجر میں شاداں ہو لیں ابھی کچھ دن میں سمجھ جائیں گے دنیا کیا ہے دل تو اک اور ہی آہنگ پہ ہے رقص کناں دل کا اس عمر فرومایہ سے رشتہ کیا ہے ہم اسے بھول چکے ہیں مگر اے دور حیات سامنے آنکھوں کے یہ صورت ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2