Mahmood Alam

محمود عالم

محمود عالم کی غزل

    ابھی ذرا سی ہوا لگی ہے

    ابھی ذرا سی ہوا لگی ہے ابھی محبت نہیں ہوئی ہے کسی پہ مر کے ہے جینا سیکھا جو جان دے دی تو جاں بچی ہے جو میں نے پوچھا کہ عشق ہے کیا وہ ہنس کے بولے یہ زندگی ہے جو قلب کو زندگی نہ بخشے وہ بندگی بھی کیا بندگی ہے یوں علم معلوم کو نہ سمجھو یہ علم معلوم کی نفی ہے یہ عشق کی ہے نماز جس ...

    مزید پڑھیے

    ہے میری زیست کا سہارا غم

    ہے میری زیست کا سہارا غم جو ملا ہے مجھے تمہارا غم انبیا پر کتاب نازل کی اور دل پر مرے اتارا غم یار کا غم بھی یار ہوتا ہے یار ہوتا نہیں خسارہ غم حسن سولہ سنگھار کرتا ہے اور کر آیا ہے اٹھارہ غم قلب روشن اسی سے ہے عالمؔ ہے تجلی کا استعارہ غم

    مزید پڑھیے

    اذیتیں یوں بڑھا رہا ہوں

    اذیتیں یوں بڑھا رہا ہوں میں دل کی گردن دبا رہا ہوں وہ ہاتھ میں دل تھما کے بولے سنبھالو اس کو میں جا رہا ہوں خدا علیم بصیر ہے جب تو حال دل کیوں سنا رہا ہوں نیا نہیں ہے یہ عشق میرا ازل سے ہی مبتلا رہا ہوں مجھے فرشتہ نہ بول پیارے جا پوچھ ان سے میں کیا رہا ہوں حجاب کا ہے عذاب ...

    مزید پڑھیے

    لب خاموش کا بیاں ہوں میں

    لب خاموش کا بیاں ہوں میں کنز مخفی ہے وہ عیاں ہوں میں میرے اندر لہو لہان ہے حق کوئی کربل سی داستاں ہوں میں بولتا ہوں میں ہے زبان اس کی مجھ میں وہ ہے نہاں کہاں ہوں میں پوچھ مجھ سے جو پوچھنا ہے تجھے سر مخفی کا رازداں ہوں میں جیبھ کاٹی علی علی نا رکا ایک میثم سا بے زباں ہوں میں طور ...

    مزید پڑھیے

    نہ کوئی حرف دعا عرض تمنا بھی نہیں

    نہ کوئی حرف دعا عرض تمنا بھی نہیں اب نہ مولا ہے میرا اور میں بندہ بھی نہیں میرے چہرے سے ملا کرتی ہے اس کی صورت اس کی صورت سا مرے پاس تو چہرہ بھی نہیں رب ارنی کا یہ حاصل رہا بینائی گئی ایسے دیکھا کہ اسے ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں پہلے فرعون مرا بعد میں موسیٰ بھی مرے ایک مر جاتا ہے اک ...

    مزید پڑھیے

    چیختے ہیں دیار راتوں میں

    چیختے ہیں دیار راتوں میں لے لو راہ فرار راتوں میں روز ہوتا ہے مقبرہ کمرہ اور بستر مزار راتوں میں دھڑکنیں گونجتی ہیں سینے میں بڑھتا ہے اضطرار راتوں میں میرے شیون پہ مسکراتا ہے میرا پروردگار راتوں میں تیرگی میرے دل میں خنجر سی ہو رہی آر پار راتوں میں نیند ہے لیس زیر کرنے ...

    مزید پڑھیے