نہ کوئی حرف دعا عرض تمنا بھی نہیں
نہ کوئی حرف دعا عرض تمنا بھی نہیں
اب نہ مولا ہے میرا اور میں بندہ بھی نہیں
میرے چہرے سے ملا کرتی ہے اس کی صورت
اس کی صورت سا مرے پاس تو چہرہ بھی نہیں
رب ارنی کا یہ حاصل رہا بینائی گئی
ایسے دیکھا کہ اسے ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں
پہلے فرعون مرا بعد میں موسیٰ بھی مرے
ایک مر جاتا ہے اک موت سے مرتا بھی نہیں
ذات واحد ہے اگر وہ تو میں فرد وحدت
اس میں اور مجھ میں کوئی فرق زیادہ بھی نہیں
یہ تو اک کھیل ہے اور کھیل بلا کا عالمؔ
لیلیٰ کا قیس نہیں قیس کی لیلیٰ بھی نہیں