لب خاموش کا بیاں ہوں میں
لب خاموش کا بیاں ہوں میں
کنز مخفی ہے وہ عیاں ہوں میں
میرے اندر لہو لہان ہے حق
کوئی کربل سی داستاں ہوں میں
بولتا ہوں میں ہے زبان اس کی
مجھ میں وہ ہے نہاں کہاں ہوں میں
پوچھ مجھ سے جو پوچھنا ہے تجھے
سر مخفی کا رازداں ہوں میں
جیبھ کاٹی علی علی نا رکا
ایک میثم سا بے زباں ہوں میں
طور دل جل گیا مرا عالمؔ
اک تجلی کی داستاں ہوں میں