اذیتیں یوں بڑھا رہا ہوں
اذیتیں یوں بڑھا رہا ہوں
میں دل کی گردن دبا رہا ہوں
وہ ہاتھ میں دل تھما کے بولے
سنبھالو اس کو میں جا رہا ہوں
خدا علیم بصیر ہے جب
تو حال دل کیوں سنا رہا ہوں
نیا نہیں ہے یہ عشق میرا
ازل سے ہی مبتلا رہا ہوں
مجھے فرشتہ نہ بول پیارے
جا پوچھ ان سے میں کیا رہا ہوں
حجاب کا ہے عذاب ورنہ
خدا سے کب میں جدا رہا ہوں