ہے میری زیست کا سہارا غم
ہے میری زیست کا سہارا غم
جو ملا ہے مجھے تمہارا غم
انبیا پر کتاب نازل کی
اور دل پر مرے اتارا غم
یار کا غم بھی یار ہوتا ہے
یار ہوتا نہیں خسارہ غم
حسن سولہ سنگھار کرتا ہے
اور کر آیا ہے اٹھارہ غم
قلب روشن اسی سے ہے عالمؔ
ہے تجلی کا استعارہ غم