ابھی کمی ہے بہت تجھ میں دیکھ ایسا کر
ابھی کمی ہے بہت تجھ میں دیکھ ایسا کر کسی بزرگ کے سائے میں روز بیٹھا کر شعاع مہر بصارت کو چھین لیتی ہے نظر اٹھا کے نہ سورج کی سمت دیکھا کر مجھے یقیں ہے کہ جا کر بھی لوٹ آئے گا ہزار بار بچھڑنے کا تو ارادہ کر چمک رہے ہیں اندھیرے میں کانچ کے ٹکڑے تجھے دکھائی نہ دیں گے ذرا اجالا ...