سچائیوں سے اس کو بھی انکار ہو گیا

سچائیوں سے اس کو بھی انکار ہو گیا
اک شخص آج اور گنہ گار ہو گیا


وہ چارہ ساز جس پہ زمانے کو ناز تھا
مجھ کو اداس دیکھ کے بیمار ہو گیا


قاتل نے ایک شخص کو یوں قتل کر دیا
پہچاننا بھی لاش کو دشوار ہو گیا


جانیں فساد میں تو بہت سی گئیں مگر
کیوں ایک نام سرخیٔ اخبار ہو گیا


پتھر سمجھ رہے تھے اثر جس کو لوگ وہ
ترشا گیا تو رونق بازار ہو گیا