Mahfooz Asar

محفوظ اثر

  • 1950

محفوظ اثر کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    ابھی کمی ہے بہت تجھ میں دیکھ ایسا کر

    ابھی کمی ہے بہت تجھ میں دیکھ ایسا کر کسی بزرگ کے سائے میں روز بیٹھا کر شعاع مہر بصارت کو چھین لیتی ہے نظر اٹھا کے نہ سورج کی سمت دیکھا کر مجھے یقیں ہے کہ جا کر بھی لوٹ آئے گا ہزار بار بچھڑنے کا تو ارادہ کر چمک رہے ہیں اندھیرے میں کانچ کے ٹکڑے تجھے دکھائی نہ دیں گے ذرا اجالا ...

    مزید پڑھیے

    نمائشوں کا گزر کب رہ نجات میں ہے

    نمائشوں کا گزر کب رہ نجات میں ہے عبادتوں کا مزہ تو اندھیری رات میں ہے بڑھے جو تیرگیٔ شب تو اور میں چمکوں چمک ستاروں کے جیسی ہی مری ذات میں ہے بچھڑنے والے کو میں اس لیے نہیں بھولا وہ آ بھی سکتا ہے یہ بھی توقعات میں ہے ہے اعتراف کہ تعریف کر رہے ہو تم حسد کا پہلو بھی لیکن تمہاری ...

    مزید پڑھیے

    کبھی پتھر تھا اب میں آئنہ ہوں

    کبھی پتھر تھا اب میں آئنہ ہوں کوئی دیکھے کہ کیا تھا اور کیا ہوں زمانہ کر رہا ہے غور جس پر وہ اک نقطہ کتاب زیست کا ہوں سکوت آب پر تحریر پڑھنا میں اک چھوٹا سا کنکر پھینکتا ہوں مجھے جتنا تپایا جا رہا ہے میں اتنا ہی چمکتا جا رہا ہوں گماں ہونے لگا ہے حادثے کا بہت اونچی عمارت پر کھڑا ...

    مزید پڑھیے

    شکوہ بن کر فغاں سے اٹھتا ہے

    شکوہ بن کر فغاں سے اٹھتا ہے شعلۂ غم زباں سے اٹھتا ہے پھر جلا آشیاں کوئی شاید پھر دھواں گلستاں سے اٹھتا ہے ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ لے کا جب کوئی درمیاں سے اٹھتا ہے ٹھہرے پانی میں کچھ نہیں ہوتا شور آب رواں سے اٹھتا ہے سر میں سودائے بندگی ہے اثرؔ کون اس آستاں سے اٹھتا ہے

    مزید پڑھیے

    یہ نقش ایسا نہیں ہے جسے مٹاؤں میں

    یہ نقش ایسا نہیں ہے جسے مٹاؤں میں مجھے بتا کہ تجھے کیسے بھول جاؤں میں کوئی لکیر ہی روشن نہیں ہتھیلی پر نجومیوں کو بھلا ہاتھ کیا دکھاؤں میں بجھا بجھا سا نظر آ رہا ہے ہر کوئی فسانۂ غم ہستی کسے سناؤں میں یقیں کرو کہ مری جیت پھر یقینی ہے مگر کہو تو یہ بازی بھی ہار جاؤں میں نظر کے ...

    مزید پڑھیے

تمام