یہ کرم درویش نے اک پل میں مجھ پر کر دیا

یہ کرم درویش نے اک پل میں مجھ پر کر دیا
ملتفت نظروں سے دیکھا اور تونگر کر دیا


خوش مزاجی تو مری فطرت میں شامل تھی مگر
اس کی باتوں نے مجھے آپے سے باہر کر دیا


اب تو حسرت سے مجھے تکنے لگیں اونچائیاں
خاکساری نے مری مجھ کو قد آور کر دیا


اب تو بس قسمت میں لکھی ہے بیابانوں کی خاک
جستجو نے اس کی مجھ کو گھر سے بے گھر کر دیا


غیر کا شکوہ گلہ کس سے کروں اب میں اثرؔ
میرے اپنوں ہی نے میرا جینا دوبھر کر دیا