کبھی پتھر تھا اب میں آئنہ ہوں
کبھی پتھر تھا اب میں آئنہ ہوں
کوئی دیکھے کہ کیا تھا اور کیا ہوں
زمانہ کر رہا ہے غور جس پر
وہ اک نقطہ کتاب زیست کا ہوں
سکوت آب پر تحریر پڑھنا
میں اک چھوٹا سا کنکر پھینکتا ہوں
مجھے جتنا تپایا جا رہا ہے
میں اتنا ہی چمکتا جا رہا ہوں
گماں ہونے لگا ہے حادثے کا
بہت اونچی عمارت پر کھڑا ہوں