یہ جو ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں رات کو
یہ جو ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں رات کو رات کیا سمجھ سکے ان معاملات کو حسن اور نجات میں فصل مشرقین ہے کون چاہتا نہیں حسن کو نجات کو یہ سکون بے جہت یہ کشش عجیب ہے تجھ میں بند کر دیا کس نے شش جہات کو ساحل خیال پر کہکشاں کی چھوٹ تھی ایک موج لے گئی ان تجلیات کو آنکھ جب اٹھے بھر آئے شعر ...