Mahboob Khizan

محبوب خزاں

پاکستان میں نئی غزل کے ممتاز شاعر

Prominent poet of New Ghazal in Pakistan

محبوب خزاں کے تمام مواد

21 غزل (Ghazal)

    ہر بات یہاں بات بڑھانے کے لیے ہے

    ہر بات یہاں بات بڑھانے کے لیے ہے یہ عمر جو دھوکا ہے تو کھانے کے لیے ہے یہ دامن‌ حسرت ہے وہی خواب گریزاں جو اپنے لیے ہے نہ زمانے کے لیے ہے اترے ہوئے چہرے میں شکایت ہے کسی کی روٹھی ہوئی رنگت ہے منانے کے لیے ہے غافل تری آنکھوں کا مقدر ہے اندھیرا یہ فرش تو راہوں میں بچھانے کے لیے ...

    مزید پڑھیے

    جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں

    جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں یہاں تو اہل سخن آدمی سے کھیلتے ہیں نگار مے کدہ سب سے زیادہ قابل رحم وہ تشنہ کام ہیں جو تشنگی سے کھیلتے ہیں تمام عمر یہ افسردگان محفل گل کلی کو چھیڑتے ہیں بے کلی سے کھیلتے ہیں فراز عشق نشیب جہاں سے پہلے تھا کسی سے کھیل چکے ہیں کسی سے کھیلتے ...

    مزید پڑھیے

    آئنے کہتے ہیں اس خواب کو رسوا نہ کرو

    آئنے کہتے ہیں اس خواب کو رسوا نہ کرو ایسے کھوئے ہوئے انداز سے دیکھا نہ کرو کیسے آ جاتی ہے کونپل پہ یہ جادو کی لکیر دن گزر جاتے ہیں محسوس کرو یا نہ کرو کہیں دیوار قیامت کبھی زنجیر ازل کیا کرو عشق زیاں کیش میں اور کیا نہ کرو بھاگتے جاؤ کسی سمت کسی سائے سے تذکرہ ایک ہے افسانہ در ...

    مزید پڑھیے

    حسرت آب و گل دوبارہ نہیں

    حسرت آب و گل دوبارہ نہیں دیکھ دنیا نہیں ہمیشہ نہیں سوچنے کا کوئی نتیجہ نہیں سایہ ہے اعتبار سایہ نہیں سادہ کاری کئی پرت کئی رنگ سادگی اک ادائے سادہ نہیں اچھے لگتے ہیں اچھے لوگ مجھے جو سمجھتے ہیں ان سے پردہ نہیں میں کہیں اور کس طرح جاؤں تو کسی اور کے علاوہ نہیں تجھ سے بھاگے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی قریب نہ آئے شکستہ پا ہوں میں

    کوئی قریب نہ آئے شکستہ پا ہوں میں کرم تو ہے مگر انجام دیکھتا ہوں میں مری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈنے والے تری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈتا ہوں میں زمانہ دیر فراموش تو نہیں اتنا یہ ٹھیک ہے کہ بہت دیر آشنا ہوں میں غلط نہیں وہ جو شکوے اب آپ کو ہوں گے بدل گیا ہے زمانہ بدل گیا ہوں میں مجھے ...

    مزید پڑھیے

تمام

9 نظم (Nazm)

    رہ گزر کے بعد

    میں سوچتا ہوں کہ اس خیر و شر کے بعد ہے کیا فضا تمام نظر ہے نظر کے بعد ہے کیا شب انتظار سحر ہے سحر کے بعد ہے کیا دعا برائے اثر ہے اثر کے بعد ہے کیا یہ رہ گزر ہے تو اس رہ گزر کے بعد ہے کیا

    مزید پڑھیے

    میں نے کچھ نہیں کہا

    رات اس کو خواب میں دیکھ کر میں نے کچھ نہیں کہا چار سال کی تھکن جواں ہوئی تشنگی بڑھ کے بے کراں ہوئی ہاں مگر جب آنسوؤں کی نرم گرم تازگی آس پاس دل کشی بکھر گئی اور ایک سایہ سا سرہانے آ کے تھم گیا میں نے یہ کہا کہ اے مرے خدا تو بڑا رحیم ہے اس کا دل دو نیم ہے اس کے رنگ اس کے حسن کو نکھار ...

    مزید پڑھیے

    کیف سے خمار تک

    وہ حسین تھی مہ جبین تھی بے گمان تھی بے یقین تھی زندگی کی نرم نرم آہٹیں بے سبب یوں ہی مسکراہٹیں انگلیوں میں بال کو لپیٹنا دامن خیال کو لپیٹنا ہر گھڑی وہی ملنے والیاں بے خیالیاں خوش خیالیاں نرم الجھنیں کم سنی کے خواب انگ انگ میں چھیڑا انقلاب منہ پر اوڑھنی جی کبھی نہیں میں تو ...

    مزید پڑھیے

    رات اور دن

    میں نے محسوس کیا ہے تو کھلی ہیں آنکھیں میں نے محسوس کیا ہے تو جلے ہیں یہ چراغ یہ چراغاں یہ چمن کیسے ملے ان سے نجات سانس لینے کو ٹھہر جاؤ تو جادو کا حصار ہر طرف شعلہ زباں ناگ ہیں پھن جھومتے ہیں سر اٹھاتے ہیں نئے راگ نئی راگنیاں پاؤں پڑتے ہیں گلے پڑتے ہیں انجانے خیال کیا مرے پاس ...

    مزید پڑھیے

    تم کہاں ہو

    میں تمہاری روح کی انگڑائیوں سے آشنا ہوں میں تمہاری دھڑکنوں کے زیر و بم پہچانتا ہوں میں تمہاری انکھڑیوں میں نرم لہریں جاگتی سی دیکھتا ہوں جیسے جادو جاگتا ہو تم امر ہو تو لچکتی ٹہنیوں کی مامتا ہو تم جوانی ہو تبسم ہو محبت کی لتا ہو میں تمہیں پہچانتا ہوں تم مری پہلی خطا ہو لہلہاتی ...

    مزید پڑھیے

تمام