Mahboob Khizan

محبوب خزاں

پاکستان میں نئی غزل کے ممتاز شاعر

Prominent poet of New Ghazal in Pakistan

محبوب خزاں کی نظم

    رہ گزر کے بعد

    میں سوچتا ہوں کہ اس خیر و شر کے بعد ہے کیا فضا تمام نظر ہے نظر کے بعد ہے کیا شب انتظار سحر ہے سحر کے بعد ہے کیا دعا برائے اثر ہے اثر کے بعد ہے کیا یہ رہ گزر ہے تو اس رہ گزر کے بعد ہے کیا

    مزید پڑھیے

    میں نے کچھ نہیں کہا

    رات اس کو خواب میں دیکھ کر میں نے کچھ نہیں کہا چار سال کی تھکن جواں ہوئی تشنگی بڑھ کے بے کراں ہوئی ہاں مگر جب آنسوؤں کی نرم گرم تازگی آس پاس دل کشی بکھر گئی اور ایک سایہ سا سرہانے آ کے تھم گیا میں نے یہ کہا کہ اے مرے خدا تو بڑا رحیم ہے اس کا دل دو نیم ہے اس کے رنگ اس کے حسن کو نکھار ...

    مزید پڑھیے

    کیف سے خمار تک

    وہ حسین تھی مہ جبین تھی بے گمان تھی بے یقین تھی زندگی کی نرم نرم آہٹیں بے سبب یوں ہی مسکراہٹیں انگلیوں میں بال کو لپیٹنا دامن خیال کو لپیٹنا ہر گھڑی وہی ملنے والیاں بے خیالیاں خوش خیالیاں نرم الجھنیں کم سنی کے خواب انگ انگ میں چھیڑا انقلاب منہ پر اوڑھنی جی کبھی نہیں میں تو ...

    مزید پڑھیے

    رات اور دن

    میں نے محسوس کیا ہے تو کھلی ہیں آنکھیں میں نے محسوس کیا ہے تو جلے ہیں یہ چراغ یہ چراغاں یہ چمن کیسے ملے ان سے نجات سانس لینے کو ٹھہر جاؤ تو جادو کا حصار ہر طرف شعلہ زباں ناگ ہیں پھن جھومتے ہیں سر اٹھاتے ہیں نئے راگ نئی راگنیاں پاؤں پڑتے ہیں گلے پڑتے ہیں انجانے خیال کیا مرے پاس ...

    مزید پڑھیے

    تم کہاں ہو

    میں تمہاری روح کی انگڑائیوں سے آشنا ہوں میں تمہاری دھڑکنوں کے زیر و بم پہچانتا ہوں میں تمہاری انکھڑیوں میں نرم لہریں جاگتی سی دیکھتا ہوں جیسے جادو جاگتا ہو تم امر ہو تو لچکتی ٹہنیوں کی مامتا ہو تم جوانی ہو تبسم ہو محبت کی لتا ہو میں تمہیں پہچانتا ہوں تم مری پہلی خطا ہو لہلہاتی ...

    مزید پڑھیے

    اکیلی بستیاں

    بے کس چمیلی پھولے اکیلی آہیں بھرے دل جلی بھوری پہاڑی خاکی فصیلیں دھانی کبھی سانولی جنگل میں رستے رستوں میں پتھر پتھر پہ نیلم پری لہریلی سڑکیں چلتے مناظر بکھری ہوئی زندگی بادل چٹانیں مخمل کے پردے پردوں پہ لہریں پڑیں کاکل پہ کاکل خیموں پہ خیمے سلوٹ پہ سلوٹ ہری بستی میں گندی ...

    مزید پڑھیے

    چاند کے مسافر

    زندگی کو دیکھا ہے زندگی سے بھاگے ہیں روشنی کے آنچل میں تیرگی کے دھاگے ہیں تیرگی کے دھاگوں میں خون کی روانی ہے درد ہے محبت ہے حسن ہے جوانی ہے ہر طرف وہی اندھا کھیل ہے عناصر کا تیرتا چلے ساحل ڈوبتا چلے دریا چاند ہو تو کاکل کی لہر اور چڑھتی ہے رات اور گھٹتی ہے بات اور بڑھتی ہے یہ ...

    مزید پڑھیے

    دیوار سے گفتگو

    کسی ہنستی بولتی جیتی جاگتی چیز پر یہ گھمنڈ کیا یہ گمان کیوں کہیں اور آپ کی جان کیوں یہ تو سلسلے ہیں اسی فریب خیال کے غم ذات و خیر و جمال کے وہی پھیر اہل سوال کے اجی ٹھیک ہے یہ وفا کا زہر نہ گھولیے ارے آپ جھوٹ ہی بولئے نہیں سب کے بھید نہ کھولیے کوئی کیا کرے نہ ملیں جو رنگ ہی رنگ ...

    مزید پڑھیے

    سالگرہ کی رات

    وقت کی بات ہے ہر غنچۂ سربستہ مگر وقت کیا چیز ہے بے پیمانۂ ساختہ ہے یہ شب و روز جوانی یہ مہ و سال رواں روح کیوں جسم کے آگے سپر انداختہ ہے شاخ در شاخ نظر آتی ہے جینے کی امنگ چور کی طرح سرکتی ہے رگوں میں کوئی آگ سوچنے کے لیے شاید یہ مہ و سال نہیں اے مرے دیدۂ بے خواب محبت سے نہ ...

    مزید پڑھیے