Mahboob Khizan

محبوب خزاں

پاکستان میں نئی غزل کے ممتاز شاعر

Prominent poet of New Ghazal in Pakistan

محبوب خزاں کی غزل

    ہر بات یہاں بات بڑھانے کے لیے ہے

    ہر بات یہاں بات بڑھانے کے لیے ہے یہ عمر جو دھوکا ہے تو کھانے کے لیے ہے یہ دامن‌ حسرت ہے وہی خواب گریزاں جو اپنے لیے ہے نہ زمانے کے لیے ہے اترے ہوئے چہرے میں شکایت ہے کسی کی روٹھی ہوئی رنگت ہے منانے کے لیے ہے غافل تری آنکھوں کا مقدر ہے اندھیرا یہ فرش تو راہوں میں بچھانے کے لیے ...

    مزید پڑھیے

    جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں

    جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں یہاں تو اہل سخن آدمی سے کھیلتے ہیں نگار مے کدہ سب سے زیادہ قابل رحم وہ تشنہ کام ہیں جو تشنگی سے کھیلتے ہیں تمام عمر یہ افسردگان محفل گل کلی کو چھیڑتے ہیں بے کلی سے کھیلتے ہیں فراز عشق نشیب جہاں سے پہلے تھا کسی سے کھیل چکے ہیں کسی سے کھیلتے ...

    مزید پڑھیے

    آئنے کہتے ہیں اس خواب کو رسوا نہ کرو

    آئنے کہتے ہیں اس خواب کو رسوا نہ کرو ایسے کھوئے ہوئے انداز سے دیکھا نہ کرو کیسے آ جاتی ہے کونپل پہ یہ جادو کی لکیر دن گزر جاتے ہیں محسوس کرو یا نہ کرو کہیں دیوار قیامت کبھی زنجیر ازل کیا کرو عشق زیاں کیش میں اور کیا نہ کرو بھاگتے جاؤ کسی سمت کسی سائے سے تذکرہ ایک ہے افسانہ در ...

    مزید پڑھیے

    حسرت آب و گل دوبارہ نہیں

    حسرت آب و گل دوبارہ نہیں دیکھ دنیا نہیں ہمیشہ نہیں سوچنے کا کوئی نتیجہ نہیں سایہ ہے اعتبار سایہ نہیں سادہ کاری کئی پرت کئی رنگ سادگی اک ادائے سادہ نہیں اچھے لگتے ہیں اچھے لوگ مجھے جو سمجھتے ہیں ان سے پردہ نہیں میں کہیں اور کس طرح جاؤں تو کسی اور کے علاوہ نہیں تجھ سے بھاگے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی قریب نہ آئے شکستہ پا ہوں میں

    کوئی قریب نہ آئے شکستہ پا ہوں میں کرم تو ہے مگر انجام دیکھتا ہوں میں مری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈنے والے تری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈتا ہوں میں زمانہ دیر فراموش تو نہیں اتنا یہ ٹھیک ہے کہ بہت دیر آشنا ہوں میں غلط نہیں وہ جو شکوے اب آپ کو ہوں گے بدل گیا ہے زمانہ بدل گیا ہوں میں مجھے ...

    مزید پڑھیے

    دکھ بہت ہیں زندگی میں کیا کریں گے ہم

    دکھ بہت ہیں زندگی میں کیا کریں گے ہم وہ جو تیرا فرض تھا ادا کریں گے ہم دن کو اتنے کام کس طرح کرے گا کون رات بھر تو جاگتے رہا کریں گے ہم آدھی عمر کٹ گئی خیال و خواب میں شعر سب کہیں گے اور سنا کریں گے ہم

    مزید پڑھیے

    محبت پر نہ بھولو محبت بے کسی ہے

    محبت پر نہ بھولو محبت بے کسی ہے سکون سرو و سنبل سب اپنی سادگی ہے کہاں وہ بے خودی تھی کہ خود ہم بے خبر تھے اب اتنی بیکلی ہے کہ دنیا جانتی ہے کہو مجھ سے کہ دل میں نہیں کوئی شکایت طبیعت منچلی ہے بہانے ڈھونڈتی ہے نمک سا گفتگو میں انوکھی مسکراہٹ بدن پر دھیرے دھیرے قیامت آ رہی ...

    مزید پڑھیے

    ناز و انداز دل دکھانے لگے

    ناز و انداز دل دکھانے لگے اب وہ فتنے سمجھ میں آنے لگے پھر وہی انتظار کی زنجیر رات آئی دیے جلانے لگے چھاؤں پڑنے لگی ستاروں کی روح کے زخم جھلملانے لگے حال احوال کیا بتائیں کسے سب ارادے گئے ٹھکانے لگے منزل صبح آ گئی شاید راستے ہر طرف کو جانے لگے

    مزید پڑھیے

    سبب تلاش نہ کر بس یونہی ہے یہ دنیا

    سبب تلاش نہ کر بس یونہی ہے یہ دنیا وہی بہت ہے جو کچھ جانتی ہے یہ دنیا کھلت میں بند ہیں کونپل کے سوتے جاگتے رنگ پرت پرت میں نئی دل کشی ہے یہ دنیا الجھتے رہنے میں کچھ بھی نہیں تھکن کے سوا بہت حقیر ہیں ہم تم بڑی ہے یہ دنیا یہ لوگ سانس بھی لیتے ہیں زندہ بھی ہیں مگر ہر آن جیسے انہیں ...

    مزید پڑھیے

    خواب سے پردہ کرو دیکھو مت

    خواب سے پردہ کرو دیکھو مت اب اگر دیکھ سکو دیکھو مت گرتے شہتیروں کے جنگل ہیں یہ شہر چپ رہو چلتے رہو دیکھو مت جھوٹ سچ دونوں ہی آئینے ہیں اس طرف کوئی نہ ہو دیکھو مت حسن کیا ایک چمن اک کہرام تیز و آہستہ چلو دیکھو مت پنکھڑی ایک پرت اور پرت کیوں بکھیڑے میں پڑھو دیکھو مت ہر کلی ایک ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3