سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے
سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے وہ بے کسی ہے کہ دنیا رگوں میں چلتی ہے یہ سرد مہر اجالا یہ جیتی جاگتی رات ترے خیال سے تصویر ماہ جلتی ہے وہ چال ہو کہ بدن ہو کمان جیسی کشش قدم سے گھات ادا سے ادا نکلتی ہے تمہیں خیال نہیں کس طرح بتائیں تمہیں کہ سانس چلتی ہے لیکن اداس چلتی ...