Mahboob Khizan

محبوب خزاں

پاکستان میں نئی غزل کے ممتاز شاعر

Prominent poet of New Ghazal in Pakistan

محبوب خزاں کی غزل

    سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے

    سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے وہ بے کسی ہے کہ دنیا رگوں میں چلتی ہے یہ سرد مہر اجالا یہ جیتی جاگتی رات ترے خیال سے تصویر ماہ جلتی ہے وہ چال ہو کہ بدن ہو کمان جیسی کشش قدم سے گھات ادا سے ادا نکلتی ہے تمہیں خیال نہیں کس طرح بتائیں تمہیں کہ سانس چلتی ہے لیکن اداس چلتی ...

    مزید پڑھیے

    دیکھ دریا ہے کنارے کو سنبھال

    دیکھ دریا ہے کنارے کو سنبھال یہ محبت یہ محبت کا زوال اس زمانے کو ترس جائیں گے ہم آہ یہ تشنگئ ہجر و وصال میٹھی باتوں سے ادا جاگتی ہے نرم آنکھوں میں سنورتے ہیں خیال زخم بگڑے تو بدن کاٹ کے پھینک ورنہ کانٹا بھی محبت سے نکال آپ کی یاد بھی آ جاتی ہے اتنی محروم نہیں بزم خیال خط جو ...

    مزید پڑھیے

    خزاںؔ میں خوبیاں ایسے بہت ہیں

    خزاںؔ میں خوبیاں ایسے بہت ہیں خرابی ایک ہے بنتے بہت ہیں کوئی رستہ کہیں جائے تو جانیں بدلنے کے لیے رستے بہت ہیں نئی دنیا کے سندر بن کے اندر پرانے وقت کے پودے بہت ہیں ہوئے جب سے زمانے بھر کے ہمراہ ہم اپنے ساتھ بھی تھوڑے بہت ہیں لگاوٹ ہے ستاروں سے پرانی رقابت ہے مگر ملتے بہت ...

    مزید پڑھیے

    کس نے کہا آپ سے میری مصیبت ہے کیا

    کس نے کہا آپ سے میری مصیبت ہے کیا اب یہ ندامت ہے کیوں اس کی ضرورت ہے کیا اب یہ توجہ ہے کیوں میرے شب و روز پر اپنے شب و روز سے آپ کو فرصت ہے کیا کون دکھائے مجھے شام سے کتنی حسیں کون بتائے مجھے وقت کی قیمت ہے کیا اتنے سماں اتنے شہر ایک لگن ایک لہر سات برس چپ رہے اور شکایت ہے کیا اس ...

    مزید پڑھیے

    محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا

    محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا کچھ ایسی بات ہے انکار بھی کرتے نہیں بنتا خلوص ناز کی توہین بھی دیکھی نہیں جاتی شعور حسن کو بیدار بھی کرتے نہیں بنتا تجھے اب کیا کہیں اے مہرباں اپنا ہی رونا ہے کہ ساری زندگی ایثار بھی کرتے نہیں بنتا ستم دیکھو کہ اس بے درد سے اپنی لڑائی ...

    مزید پڑھیے

    حسن سے ہٹ کے محبت کی نظر جائے کہاں

    حسن سے ہٹ کے محبت کی نظر جائے کہاں کوئی منزل نہ ملے راہ گزر جائے کہاں تم بہت دور ہو ہم بھی کوئی نزدیک نہیں دل کا کیا ٹھیک ہے کم بخت ٹھہر جائے کہاں دیکھیے خواب سحر چاٹیے دیوار ازل رات جاتی نظر آتی ہے مگر جائے کہاں رخ صحرا ہے خزاںؔ گھر کی طرف مدت سے ہم جو صحرا کی طرف جائیں تو گھر ...

    مزید پڑھیے

    پلکوں پر حسرت کی گھٹائیں ہم بھی پاگل تم بھی

    پلکوں پر حسرت کی گھٹائیں ہم بھی پاگل تم بھی جی نہ سکیں اور مرتے جائیں ہم بھی پاگل تم بھی دونوں اپنی آن کے سچے دونوں عقل کے اندھے ہاتھ بڑھائیں پھر ہٹ جائیں ہم بھی پاگل تم بھی خواب میں جیسے جان چھڑا کر بھاگ نہ سکنے والے بھاگیں اور وہیں رہ جائیں ہم بھی پاگل تم بھی صندل پھولے جنگل ...

    مزید پڑھیے

    حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں

    حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں ایک جھگڑا نہیں کہ تم سے کہیں زیر لب آہ بھی محال ہوئی درد اتنا نہیں کہ تم سے کہیں تم زلیخا نہیں کہ ہم سے کہو ہم مسیحا نہیں کہ تم سے کہیں سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں کس سے پوچھیں کہ وصل میں کیا ہے ہجر میں کیا نہیں کہ تم سے ...

    مزید پڑھیے

    چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کم

    چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کم شاید اسی لیے ہے گلا کم بہت ہی کم کیا حسن تھا کہ آنکھ لگی سایہ ہو گیا وہ سادگی کی مار، حیا کم بہت ہی کم تھے دوسرے بھی تیری محبت کے آس پاس دل کو مگر سکون ملا کم بہت ہی کم جلتے سنا چراغ سے دامن ہزار بار دامن سے کب چراغ جلا کم بہت ہی کم اب روح ...

    مزید پڑھیے

    ہم آپ قیامت سے گزر کیوں نہیں جاتے

    ہم آپ قیامت سے گزر کیوں نہیں جاتے جینے کی شکایت ہے تو مر کیوں نہیں جاتے کتراتے ہیں بل کھاتے ہیں گھبراتے ہیں کیوں لوگ سردی ہے تو پانی میں اتر کیوں نہیں جاتے آنکھوں میں نمک ہے تو نظر کیوں نہیں آتا پلکوں پہ گہر ہیں تو بکھر کیوں نہیں جاتے اخبار میں روزانہ وہی شور ہے یعنی اپنے سے یہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3