اب وفا کا ثبوت کیا دوں میں
اب وفا کا ثبوت کیا دوں میں
ساری دنیا کہو بھلا دوں میں
میں نے اپنوں سے دور جانا ہے
زندگی آ تجھے سلا دوں میں
اک تری ضد نہ ٹوٹنے پائی
ورنہ تو عرش تک ہلا دوں میں
تم مجھے موت کی دعائیں دو
زندگی کی تجھے دعا دوں میں
تم جفاؤں میں کیا کروگے کمی
گر وفائیں ذرا بڑھا دوں میں
بہتری تو اسی میں ہے شاکرؔ
دل سے ماضی کو اب مٹا دوں میں