M. I. Sajid

ایم۔ آئی۔ ساجد

  • 1946

ایم۔ آئی۔ ساجد کی غزل

    اندھیارے آنکھ آنکھ میں پہنا گئی ہے شام

    اندھیارے آنکھ آنکھ میں پہنا گئی ہے شام اک چادر سیاہ کو پھیلا گئی ہے شام راہوں میں کھو گئی ہیں محبت کی دیویاں جیسے ہر ایک موڑ پہ بہکا گئی ہے شام مغرب کی سمت جب کبھی سورج اتر گیا گھر میں دیا جلانے چلی آ گئی ہے شام سمتوں میں بٹ گئے ہیں اجالوں کے ہم نوا بے سمت دیکھ کر مجھے صحرا گئی ...

    مزید پڑھیے

    یہاں غموں کی ہے بہتات اور خوشی کم ہے

    یہاں غموں کی ہے بہتات اور خوشی کم ہے چلے بھی آؤ کہ اپنی بھی زندگی کم ہے ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ جگنوؤں آ کر ہمارے گھر میں چراغوں کی روشنی کم ہے نکل چکے ہو جو گھر سے کہیں ٹھہر جاؤ ہمارے شہر میں امن و اماں ابھی کم ہے تمہارے آنے سے پھیلے گی خوشبوئیں ہر سو چلے بھی آؤ گلابوں میں دل کشی کم ...

    مزید پڑھیے

    گلیوں میں مری گاؤں کا ڈر بول رہا ہے

    گلیوں میں مری گاؤں کا ڈر بول رہا ہے لگتا ہے سیاست کا اثر بول رہا ہے چھالے ہیں مرے پاؤں میں پر خار ہے رستہ آساں نہیں منزل یہ سفر بول رہا ہے تنہائیاں رکھتی نہ کہیں کا ہمیں لوگو بچوں کے چہکنے سے یہ گھر بول رہا ہے سازش کے سبب آگ لگائی گئی ہر سو بستی میں اجالوں کا سفر بول رہا ہے ایسے ...

    مزید پڑھیے

    سوز شعور عشق عطا ہو تو بات کر

    سوز شعور عشق عطا ہو تو بات کر تیرے بھی دل میں خوف خدا ہو تو بات کر خوشبو کی طرح مجھ سے جدا ہو نہ اس طرح سرزد جو مجھ سے کوئی خطا ہو تو بات کر پھر تو سمجھ سکے گا محبت ہے کیا بلا تیرے بھی دل میں درد اٹھا ہو تو بات کر میں نے سہی ہیں اپنے پرائے کی تلخیاں شیشہ انا کا ٹوٹ گیا ہو تو بات ...

    مزید پڑھیے