یہاں غموں کی ہے بہتات اور خوشی کم ہے

یہاں غموں کی ہے بہتات اور خوشی کم ہے
چلے بھی آؤ کہ اپنی بھی زندگی کم ہے


ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ جگنوؤں آ کر
ہمارے گھر میں چراغوں کی روشنی کم ہے


نکل چکے ہو جو گھر سے کہیں ٹھہر جاؤ
ہمارے شہر میں امن و اماں ابھی کم ہے


تمہارے آنے سے پھیلے گی خوشبوئیں ہر سو
چلے بھی آؤ گلابوں میں دل کشی کم ہے


وہ نفرتوں کا کھلاڑی ہے اس کے چہرے پر
فریب چھایا ہے شدت سے سادگی کم ہے


تمہارے ہونٹ بھی خالی ہیں مسکراہٹ سے
ہمارے سوکھے لبوں پہ بھی اب خوشی کم ہے


ضمیر بیچ کے کرتے ہیں عیش یہ ہر دم
ہمارے دور کے لوگوں میں اب خودی کم ہے


سبھی کو اپنے ہی حالات نے بدل ڈالا
ملا تو کرتے ہیں آپس میں دوستی کم ہے


سکھا دیا ہے زمانے نے یہ ہنر ساجدؔ
ہمارے لہجے میں پہلے سے بے رخی کم ہے