گلیوں میں مری گاؤں کا ڈر بول رہا ہے
گلیوں میں مری گاؤں کا ڈر بول رہا ہے
لگتا ہے سیاست کا اثر بول رہا ہے
چھالے ہیں مرے پاؤں میں پر خار ہے رستہ
آساں نہیں منزل یہ سفر بول رہا ہے
تنہائیاں رکھتی نہ کہیں کا ہمیں لوگو
بچوں کے چہکنے سے یہ گھر بول رہا ہے
سازش کے سبب آگ لگائی گئی ہر سو
بستی میں اجالوں کا سفر بول رہا ہے
ایسے بھی کیا جاتا ہے سچائی کو ظاہر
نیزے پہ لٹکتا ہوا سر بول رہا ہے
کل تک جو ریاکاروں کے چنگل میں پھنسا تھا
اب میری حمایت میں نگر بول رہا ہے
ہو تاج محل یا کہ اجنتا کی گپھائیں
فن کار کے ہاتھوں کا ہنر بول رہا ہے
دشمن ہے وہ راون کی طرح وار کرے گا
ہر سمت فسادات کا ڈر بول رہا ہے
اک تم ہی نہیں بولنے والے یہاں ساجدؔ
کہنے دو اسے وہ بھی اگر بول رہا ہے