سوز شعور عشق عطا ہو تو بات کر
سوز شعور عشق عطا ہو تو بات کر
تیرے بھی دل میں خوف خدا ہو تو بات کر
خوشبو کی طرح مجھ سے جدا ہو نہ اس طرح
سرزد جو مجھ سے کوئی خطا ہو تو بات کر
پھر تو سمجھ سکے گا محبت ہے کیا بلا
تیرے بھی دل میں درد اٹھا ہو تو بات کر
میں نے سہی ہیں اپنے پرائے کی تلخیاں
شیشہ انا کا ٹوٹ گیا ہو تو بات کر
تپتے لبوں پہ ایک تبسم سا کھل اٹھے
لہجے میں تیرے ایسی صدا ہو تو بات کر
شیشے مرے مکان کے سب چور ہو گئے
پتھر ترے بھی گھر میں گرا ہو تو بات کر
ساجدؔ جو سب کے دل میں اتر جائے تیر سا
تو نے بھی ایسا شعر کہا ہو تو بات کر