اندھیارے آنکھ آنکھ میں پہنا گئی ہے شام
اندھیارے آنکھ آنکھ میں پہنا گئی ہے شام
اک چادر سیاہ کو پھیلا گئی ہے شام
راہوں میں کھو گئی ہیں محبت کی دیویاں
جیسے ہر ایک موڑ پہ بہکا گئی ہے شام
مغرب کی سمت جب کبھی سورج اتر گیا
گھر میں دیا جلانے چلی آ گئی ہے شام
سمتوں میں بٹ گئے ہیں اجالوں کے ہم نوا
بے سمت دیکھ کر مجھے صحرا گئی ہے شام
جس سمت دیکھتا ہوں شعاعوں کے زخم ہیں
کس کی نگاہ ناز سے ٹکرا گئی ہے شام
اپنے وجود سے میں بچھڑ کر بھٹک گیا
تنہائیوں کے زخم سے مہکا گئی ہے شام
شہروں کے آسماں پہ پرندوں کا شور ہے
منظر کوئی حسین سا دکھلا گئی ہے شام
برسوں سے چل رہی تھی یہ موسم کے ساتھ ساتھ
میری گلی میں آن کے سستا گئی ہے شام
ساجدؔ اٹھو یہاں سے کہ موسم اداس ہے
سورج بچھڑ گیا ہے چلو آ گئی ہے شام