اندھیارے آنکھ آنکھ میں پہنا گئی ہے شام
اندھیارے آنکھ آنکھ میں پہنا گئی ہے شام اک چادر سیاہ کو پھیلا گئی ہے شام راہوں میں کھو گئی ہیں محبت کی دیویاں جیسے ہر ایک موڑ پہ بہکا گئی ہے شام مغرب کی سمت جب کبھی سورج اتر گیا گھر میں دیا جلانے چلی آ گئی ہے شام سمتوں میں بٹ گئے ہیں اجالوں کے ہم نوا بے سمت دیکھ کر مجھے صحرا گئی ...