Lutf-ur-rahman

لطف الرحمن

لطف الرحمن کی غزل

    سنگ طفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلا

    سنگ طفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلا ہم تو جس شہر گئے شہر تمہارا نکلا کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا جانے مدت پہ تری یاد کدھر سے آئی راکھ کے ڈھیر میں پوشیدہ شرارا نکلا دل پہ کیا جانے گزر جاتی ہے کیا پچھلے پہر اوس ٹپکی تو کہیں صبح کا تارہ ...

    مزید پڑھیے

    یوں نکلتی ہے مری بات دہن سے اس کے

    یوں نکلتی ہے مری بات دہن سے اس کے جیسے برسوں کا تعارف ہو بدن سے اس کے یوں سر بزم ملا ٹوٹ کے اک عمر پہ وہ ہم بھی گھبرا گئے بے ساختہ پن سے اس کے اس کا لہجہ ہے کہ بہتی ہوئی نغموں کی ندی جیسے الہام کی بارش ہو سخن سے اس کے اس سے مل کے بھی خلا اب بھی وہی روح میں ہے مطمئن دل بھی نہیں سرو و ...

    مزید پڑھیے

    عبارت سے ورق عاری رہے گا

    عبارت سے ورق عاری رہے گا مگر لکھنا مرا جاری رہے گا ازل کی صبح سے شام ابد تک نشہ مجھ پہ تو یہ طاری رہے گا خدائی ہے تو ہے کوئی خدا بھی نہ ہو شاعر تو کب قاری رہے گا جو ناز کج کلاہی سے ہے غافل وہی فن کار درباری رہے گا محبت کرنے والوں کا جہاں سے عجب اک رشتۂ خواری رہے گا بندھی ہے جس ...

    مزید پڑھیے

    ہم کو کچھ یاد نہیں تیرے سوا بھول گئے

    ہم کو کچھ یاد نہیں تیرے سوا بھول گئے اپنی صورت ہی نہیں اپنی صدا بھول گئے کوچہ چشم کے سب نقش و نوا بھول گئے ہم پہ وہ وقت پڑا شور انا بھول گئے میں اکیلا ہی رہا برگ و ثمر سے خالی موسم گل میں مجھے میرے خدا بھول گئے موت اور ہجر مسلسل میں کوئی فرق نہیں تو تو پھر تو ہے ہم اپنی وفا بھول ...

    مزید پڑھیے

    آئی تو کہیں کوئی قیامت نہیں اب کے

    آئی تو کہیں کوئی قیامت نہیں اب کے اس شہر میں اک سر بھی سلامت نہیں اب کے یوں خیمۂ گل خاک ہوا فصل جنوں میں پھولوں پہ کوئی رنگ ملاحت نہیں اب کے کیا جانیے کس دشت کا پیوند ہوا ہے اک شخص سر کوئے ملامت نہیں اب کے اب ٹوٹ کے صحرا میں بکھرنے کی ہوس ہے اک گوشۂ دامن پہ قناعت نہیں اب کے ہاں ...

    مزید پڑھیے

    جب دل میں تیری یاد نہ آنکھوں میں نیند تھی

    جب دل میں تیری یاد نہ آنکھوں میں نیند تھی ایسی بھی ایک رات مجھے کاٹنی پڑی جس کے بغیر پل کا گزرنا محال تھا اس جان جاں کی یاد بھی مہمان بن گئی پہلو میں بھی ترے غم دوراں کا ڈر رہا کار جہاں نے یوں مری مٹی خراب کی جس کے لیے یہ خاک بسر عمر بھر رہا اس نے دل غریب کی کوئی خبر نہ کی جینا ...

    مزید پڑھیے

    میں دور ہو کے بھی اس سے کبھی جدا نہ ہوا

    میں دور ہو کے بھی اس سے کبھی جدا نہ ہوا کہ اس کے بعد کسی کا بھی آشنا نہ ہوا تمام عمر مرا مجھ سے اختلاف رہا گلہ نہ کر جو کبھی تیرا ہم نوا نہ ہوا وہ جاتے جاتے دلاسے بھی دے گیا کیا کیا یہ اور بات کہ پھر اس سے رابطہ نہ ہوا ہزار شکر سلامت ہے میرا سر اب بھی ہزار دشمن جاں سے بھی دوستانہ ...

    مزید پڑھیے

    آج تک بہکا نہیں باہر سے دیوانہ ترا

    آج تک بہکا نہیں باہر سے دیوانہ ترا حوصلے میری نگاہوں کے ہیں پیمانہ ترا رات بھر شبنم کی آنکھوں سے سحر کی مانگ میں میں جسے لکھتا رہا وہ بھی تھا افسانہ ترا یہ ترے دریا سلامت یہ ترے بادل بخیر لٹ رہے ہیں خم پہ خم ثابت ہے مے خانہ ترا آنسوؤں کی آب جو حائل ہے ورنہ لاؤں میں میری نظروں کا ...

    مزید پڑھیے

    میں اپنے آپ کو آواز دے رہا ہوں ابھی

    میں اپنے آپ کو آواز دے رہا ہوں ابھی غزل کے ہاتھ میں اک ساز دے رہا ہوں ابھی اک ایک حرف مری تشنگی کا ضامن ہے اک ایک حرف کو اعجاز دے رہا ہوں ابھی ہوا کی زد پہ کوئی برگ زرد ہے کب سے سو اس کے سوز کو اک ساز دے رہا ہوں ابھی میں در بدر ہوں ابھی اپنی جستجو میں بہت میں اپنے لہجے کو انداز دے ...

    مزید پڑھیے

    تلوار لے رہے تھے حمایت میں پھول کی

    تلوار لے رہے تھے حمایت میں پھول کی پت جھڑ کے مورچوں میں عجب ہم نے بھول کی اپنے لہو سے شام کو سیراب کر دیا دن بھر کے انتظار کی قیمت وصول کی بکھرا ہے اس طرح سے ہر اک ذرۂ وجود صورت نہیں ہے کوئی بھی اپنے حصول کی ہمدردیوں کے تیر سے زخمی نہ کر مزید ہم نے تو خود چنی تھیں یہ راہیں ببول ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2