Lutf-ur-rahman

لطف الرحمن

لطف الرحمن کی غزل

    میں ٹوٹتا رہوں ایسی تری رضا تو نہیں

    میں ٹوٹتا رہوں ایسی تری رضا تو نہیں ہوائے تند میں شامل تری ادا تو نہیں میں چونک اٹھا ہوں بہت اپنی چپ کے صحرا میں جو آ رہی ہے کہیں میری ہی صدا تو نہیں نہ جانے کون سی منزل شکست کی آئی مری پکار میں پہلے یہ درد تھا تو نہیں فغاں پہ تنگ ہوا لفظ و صوت کا صحرا مرا خرابۂ جاں بے کنار تھا تو ...

    مزید پڑھیے

    اپنے لفظوں میں کہ ہر چند عیاں ہوں میں بھی

    اپنے لفظوں میں کہ ہر چند عیاں ہوں میں بھی بن کے زخموں کی کسک خود میں نہاں ہوں میں بھی تیرے آغاز سے انجام ہے روشن میرا برگ آوارہ کوئی خاک رواں ہوں میں بھی معتبر اب تو بنا اے نگۂ ناز مجھے اس بھرے شہر میں بے نام و نشاں ہوں میں بھی وضع داری کا خریدار کہیں سے لاؤ اپنی تہذیب کی اٹھتی ...

    مزید پڑھیے

    تو ہی اس شہر میں ہے ایک شناسا میری

    تو ہی اس شہر میں ہے ایک شناسا میری اب کہیں لے کے مجھے چل شب تنہا میری لے گیا ساتھ ہی اپنے وہ مرے خواب و خیال زندگی اب بھی وہی ہے تہہ و بالا میری اس کی آنکھوں میں بھی پہچان کے ڈورے نہ ملے دل کی دھڑکن بھی سلامت تھی سراپا میری میں کہ اپنا ہی پتہ پوچھ رہا ہوں سب سے کھو گئی جانے کہاں ...

    مزید پڑھیے

    جانے کس سانحۂ درد کے غماز رہے

    جانے کس سانحۂ درد کے غماز رہے عہد در عہد بکھرتی ہوئی آواز رہے گم ہوئی جاتی ہے تاریک خلاؤں میں نظر اس گھڑی میرے سرہانے مرا دم ساز رہے اپنی پہچان ہی کھو بیٹھے ہیں رفتہ رفتہ اپنے ہی آپ سے کتنے نظر انداز رہے نارسائی کا یہ دکھ بھی تو مکمل نہ ہوا ہم ترے ربط میں آغاز ہی آغاز رہے آ کے ...

    مزید پڑھیے

    بہت مزا تھا اڑان میں بھی

    بہت مزا تھا اڑان میں بھی یقیں تھا روشن گمان میں بھی حسین شب پر ہے چاند میرا دیا جلا آسمان میں بھی وہی اکیلا ہے انجمن میں وہی ہے تنہا مکان میں بھی چٹان میں بھی رواں ہے دریا چھپا ہے دریا چٹان میں بھی ہوئے تھے بازو بھی شل ہمارے ہوا نہ تھی بادبان میں بھی وہی تھا آغاز و انتہا ...

    مزید پڑھیے

    اتنا چپ چاپ تعلق پہ زوال آیا تھا

    اتنا چپ چاپ تعلق پہ زوال آیا تھا دل ہی رویا تھا نہ چہرے پہ ملال آیا تھا صبح دم مجھ کو نہ پہچان سکا آئینہ میں شب غم کی مسافت سے نڈھال آیا تھا پھر ٹپکتی رہی سینے پہ یہ شبنم کیسی یاد آئی نہ کبھی تیرا خیال آیا تھا کہکشاں میرے دریچوں میں اتر آئی تھی میرے ساغر میں ترا عکس جمال آیا ...

    مزید پڑھیے

    نہیں یہ ضد کہ ہر اک درد تو مرا لے جا

    نہیں یہ ضد کہ ہر اک درد تو مرا لے جا جو ہو سکے تو یہ برسوں کا رت جگا لے جا ترا تو کیا کہ خود اپنا بھی میں کبھی نہ رہا مرے خیال سے خوابوں کا سلسلہ لے جا کسی نے دور بہت دور سے پکارا پھر دلوں کی قربتیں آنکھوں کا فاصلہ لے جا نکل گیا ہوں بہت اپنی ذات سے آگے تو مجھ سے میرے بچھڑنے کا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2