عبارت سے ورق عاری رہے گا

عبارت سے ورق عاری رہے گا
مگر لکھنا مرا جاری رہے گا


ازل کی صبح سے شام ابد تک
نشہ مجھ پہ تو یہ طاری رہے گا


خدائی ہے تو ہے کوئی خدا بھی
نہ ہو شاعر تو کب قاری رہے گا


جو ناز کج کلاہی سے ہے غافل
وہی فن کار درباری رہے گا


محبت کرنے والوں کا جہاں سے
عجب اک رشتۂ خواری رہے گا


بندھی ہے جس کے سر دستار شاہی
وہ صوفی جنس بازاری رہے گا