تلوار لے رہے تھے حمایت میں پھول کی

تلوار لے رہے تھے حمایت میں پھول کی
پت جھڑ کے مورچوں میں عجب ہم نے بھول کی


اپنے لہو سے شام کو سیراب کر دیا
دن بھر کے انتظار کی قیمت وصول کی


بکھرا ہے اس طرح سے ہر اک ذرۂ وجود
صورت نہیں ہے کوئی بھی اپنے حصول کی


ہمدردیوں کے تیر سے زخمی نہ کر مزید
ہم نے تو خود چنی تھیں یہ راہیں ببول کی


خوشبو کی طرح ہم ہیں خرابی میں دہر کی
یہ شاخ گل پلی تھی فضاؤں میں دھول کی