Lutf-ur-rahman

لطف الرحمن

لطف الرحمن کے تمام مواد

17 غزل (Ghazal)

    سنگ طفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلا

    سنگ طفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلا ہم تو جس شہر گئے شہر تمہارا نکلا کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا جانے مدت پہ تری یاد کدھر سے آئی راکھ کے ڈھیر میں پوشیدہ شرارا نکلا دل پہ کیا جانے گزر جاتی ہے کیا پچھلے پہر اوس ٹپکی تو کہیں صبح کا تارہ ...

    مزید پڑھیے

    یوں نکلتی ہے مری بات دہن سے اس کے

    یوں نکلتی ہے مری بات دہن سے اس کے جیسے برسوں کا تعارف ہو بدن سے اس کے یوں سر بزم ملا ٹوٹ کے اک عمر پہ وہ ہم بھی گھبرا گئے بے ساختہ پن سے اس کے اس کا لہجہ ہے کہ بہتی ہوئی نغموں کی ندی جیسے الہام کی بارش ہو سخن سے اس کے اس سے مل کے بھی خلا اب بھی وہی روح میں ہے مطمئن دل بھی نہیں سرو و ...

    مزید پڑھیے

    عبارت سے ورق عاری رہے گا

    عبارت سے ورق عاری رہے گا مگر لکھنا مرا جاری رہے گا ازل کی صبح سے شام ابد تک نشہ مجھ پہ تو یہ طاری رہے گا خدائی ہے تو ہے کوئی خدا بھی نہ ہو شاعر تو کب قاری رہے گا جو ناز کج کلاہی سے ہے غافل وہی فن کار درباری رہے گا محبت کرنے والوں کا جہاں سے عجب اک رشتۂ خواری رہے گا بندھی ہے جس ...

    مزید پڑھیے

    ہم کو کچھ یاد نہیں تیرے سوا بھول گئے

    ہم کو کچھ یاد نہیں تیرے سوا بھول گئے اپنی صورت ہی نہیں اپنی صدا بھول گئے کوچہ چشم کے سب نقش و نوا بھول گئے ہم پہ وہ وقت پڑا شور انا بھول گئے میں اکیلا ہی رہا برگ و ثمر سے خالی موسم گل میں مجھے میرے خدا بھول گئے موت اور ہجر مسلسل میں کوئی فرق نہیں تو تو پھر تو ہے ہم اپنی وفا بھول ...

    مزید پڑھیے

    آئی تو کہیں کوئی قیامت نہیں اب کے

    آئی تو کہیں کوئی قیامت نہیں اب کے اس شہر میں اک سر بھی سلامت نہیں اب کے یوں خیمۂ گل خاک ہوا فصل جنوں میں پھولوں پہ کوئی رنگ ملاحت نہیں اب کے کیا جانیے کس دشت کا پیوند ہوا ہے اک شخص سر کوئے ملامت نہیں اب کے اب ٹوٹ کے صحرا میں بکھرنے کی ہوس ہے اک گوشۂ دامن پہ قناعت نہیں اب کے ہاں ...

    مزید پڑھیے

تمام