Kumar Vishwas

کمار وشواس

کمار وشواس کی غزل

    سب تمنائیں ہوں پوری کوئی خواہش بھی رہے

    سب تمنائیں ہوں پوری کوئی خواہش بھی رہے چاہتا وہ ہے محبت میں نمائش بھی رہے آسماں چومے مرے پنکھ تری رحمت سے اور کسی پیڑ کی ڈالی پہ رہائش بھی رہے اس نے سونپا نہیں مجھ کو مرے حصے کا وجود اس کی کوشش ہے کہ مجھ سے مری رنجش بھی رہے مجھ کو معلوم ہے میرا ہے وہ میں اس کا ہوں اس کی چاہت ہے کہ ...

    مزید پڑھیے

    ہم کہاں ہیں یہ پتا لو تم بھی

    ہم کہاں ہیں یہ پتا لو تم بھی بات آدھی تو سنبھالو تم بھی دل لگایا ہی نہیں تھا تم نے دل لگی کی تھی مزا لو تم بھی ہم کو آنکھوں میں نہ آنجو لیکن خود کو خود پر تو سجا لو تم بھی جسم کی نیند میں سونے والوں روح میں خواب تو پالو تم بھی

    مزید پڑھیے

    میں تو جھونکا ہوں ہواؤں کا اڑا لے جاؤں گا

    میں تو جھونکا ہوں ہواؤں کا اڑا لے جاؤں گا جاگتی رہنا تجھے تجھ سے چرا لے جاؤں گا ہو کے قدموں پہ نچھاور پھول نے بت سے کہا خاک میں مل کر بھی میں خوشبو بچا لے جاؤں گا کون سی شے مجھ کو پہنچائے گی تیرے شہر تک یہ پتا تو تب چلے گا جب پتا لے جاؤں گا کوششیں مجھ کو مٹانے کی بھلے ہوں ...

    مزید پڑھیے

    آبشاروں کی یاد آتی ہے

    آبشاروں کی یاد آتی ہے پھر کناروں کی یاد آتی ہے جو نہیں ہیں مگر انہیں سے ہوں ان نظاروں کی یاد آتی ہے زخم پہلے ابھر کے آتے ہیں پھر ہزاروں کی یاد آتی ہے آئنے میں نہار کر خود کو کچھ اشاروں کی یاد آتی ہے اور تو مجھ کو یاد کیا آتا ان پکاروں کی یاد آتی ہے آسماں کی سیاہ راتوں کو اب ...

    مزید پڑھیے

    تمہیں جینے میں آسانی بہت ہے

    تمہیں جینے میں آسانی بہت ہے تمہارے خون میں پانی بہت ہے کبوتر عشق کا اترے تو کیسے تمہاری چھت پہ نگرانی بہت ہے ارادہ کر لیا گر خودکشی کا تو خود کی آنکھ کا پانی بہت ہے زہر سولی نے گالی گولیوں نے ہماری ذات پہچانی بہت ہے تمہارے دل کی من مانی مری جاں ہمارے دل نے بھی مانی بہت ہے

    مزید پڑھیے

    خود کو آسان کر رہی ہو نا

    خود کو آسان کر رہی ہو نا ہم پہ احسان کر رہی ہو نا زندگی حسرتوں کی میت ہے پھر بھی ارمان کر رہی ہو نا نیند سپنے سکون امیدیں کتنا نقصان کر رہی ہو نا ہم نے سمجھا ہے پیار پر تم تو جان پہچان کر رہی ہو نا

    مزید پڑھیے

    رنگ دنیا نے دکھایا ہے نرالا دیکھوں

    رنگ دنیا نے دکھایا ہے نرالا دیکھوں ہے اندھیرے میں اجالا تو اجالا دیکھوں آئنہ رکھ دے مرے سامنے آخر میں بھی کیسا لگتا ہے ترا چاہنے والا دیکھوں کل تلک وہ جو مرے سر کی قسم کھاتا تھا آج سر اس نے مرا کیسے اچھالا دیکھوں مجھ سے ماضی مرا کل رات سمٹ کر بولا کس طرح میں نے یہاں خود کو ...

    مزید پڑھیے

    بات کرنی ہے بات کون کرے

    بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تمہیں بلاتے ہیں چاند نہ ہو تو رات کون کرے اب تجھے رب کہیں یا بت سمجھیں عشق میں ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی تم اس سے زیادہ ذکات کون کرے

    مزید پڑھیے

    دل تو کرتا ہے خیر کرتا ہے

    دل تو کرتا ہے خیر کرتا ہے آپ کا ذکر غیر کرتا ہے کیوں نہ میں دل سے دوں دعا اس کو جبکہ وہ مجھ سے بیر کرتا ہے آپ تو ہو بہ ہو وہی ہیں جو میرے سپنوں میں سیر کرتا ہے عشق کیوں آپ سے یہ دل میرا مجھ سے پوچھے بغیر کرتا ہے ایک ذرہ دعائیں ماں کی لے آسمانوں کی سیر کرتا ہے

    مزید پڑھیے

    یہ خیالوں کی بد حواسی ہے

    یہ خیالوں کی بد حواسی ہے یا ترے نام کی اداسی ہے آئنے کے لیے تو پتلی ہیں ایک کعبہ ہے ایک کاشی ہے تم نے ہم کو تباہ کر ڈالا بات ہونے کو یہ ذرا سی ہے

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2