سب تمنائیں ہوں پوری کوئی خواہش بھی رہے
سب تمنائیں ہوں پوری کوئی خواہش بھی رہے چاہتا وہ ہے محبت میں نمائش بھی رہے آسماں چومے مرے پنکھ تری رحمت سے اور کسی پیڑ کی ڈالی پہ رہائش بھی رہے اس نے سونپا نہیں مجھ کو مرے حصے کا وجود اس کی کوشش ہے کہ مجھ سے مری رنجش بھی رہے مجھ کو معلوم ہے میرا ہے وہ میں اس کا ہوں اس کی چاہت ہے کہ ...