Kumar Vishwas

کمار وشواس

کمار وشواس کی غزل

    اسی کی طرح مجھے سارا زمانا چاہے

    اسی کی طرح مجھے سارا زمانا چاہے وہ مرا ہونے سے زیادہ مجھے پانا چاہے میری پلکوں سے پھسل جاتا ہے چہرہ تیرا یہ مسافر تو کوئی اور ٹھکانا چاہے ایک بن پھول تھا اس شہر میں وہ بھی نہ رہا کوئی اب کس کے لیے لوٹ کے آنا چاہے زندگی حسرتوں کے ساز پہ سہما سہما وہ ترانہ ہے جسے دل نہیں گانا ...

    مزید پڑھیے

    پھر مری یاد آ رہی ہوگی

    پھر مری یاد آ رہی ہوگی پھر وہ دیپک بجھا رہی ہوگی پھر مرے فیس بک پے آ کر وہ خود کو بینر بنا رہی ہوگی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو ٹیکہ لگا رہی ہوگی پھر اسی نے اسے چھوا ہوگا پھر اسی سے نبھا رہی ہوگی جسم چادر سا بچھ گیا ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوگی پھر سے اک رات کٹ گئی ہوگی پھر ...

    مزید پڑھیے

    ان کی خیر و خبر نہیں ملتی

    ان کی خیر و خبر نہیں ملتی ہم کو ہی خاص کر نہیں ملتی شاعری کو نظر نہیں ملتی مجھ کو تو ہی اگر نہیں ملتی روح میں دل میں جسم میں دنیا ڈھونڈھتا ہوں مگر نہیں ملتی لوگ کہتے ہیں روح بکتی ہے میں جدھر ہوں ادھر نہیں ملتی

    مزید پڑھیے

    تم لاکھ چاہے میری آفت میں جان رکھنا

    تم لاکھ چاہے میری آفت میں جان رکھنا پر اپنے واسطے بھی کچھ امتحان رکھنا وہ شخص کام کا ہے دو عیب بھی ہیں اس میں اک سر اٹھانا دوجا منہ میں زبان رکھنا پگلی سی ایک لڑکی سے شہر یہ خفا ہے وہ چاہتی ہے پلکوں پہ آسمان رکھنا کیول فقیروں کو ہے یہ کامیابی حاصل مستی سے جینا اور خوش سارا جہان ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2