ہم سنائیں گے تجھے اپنا فسانہ ایک دن
ہم سنائیں گے تجھے اپنا فسانہ ایک دن یوں نہیں اے زندگی فرصت میں آنا ایک دن بات لمبی وقت تھوڑا آنکھ نم ہے آپ کی اس طرح بھی کیا خبر تھی ہوگا جانا ایک دن بات آئی ہے زباں پہ عرض کر دوں جو کہو ہم نے چاہا تھا تمہیں اپنا بنانا ایک دن رہ نہ جائے کوئی حسرت کر گزر جو تجھ سے ہو ورنہ اس اندھے ...