چاند کو لے کر چلی گئی ہے دور کہیں بارات بہت

چاند کو لے کر چلی گئی ہے دور کہیں بارات بہت
ہم بھی چلو اب سو جائیں کہ بیت گئی ہے رات بہت


ساون میں غضب کا سوکھا تھا ہوئی چیت میں ہے برسات بہت
رشتوں کی جگہ ان رشتوں کی اب ہونے لگی ہے بات بہت


جا پہنچے لوگ تو منزل پر میں خوش ہوں اب تک سفر میں ہوں
کہ میرے لیے اے جان غزل ہے ہاتھ میں تیرا ہاتھ بہت


کچھ لوگ ہماری بستی میں آ گئے ہیں سکتے میں سن کر
کہ وہ جو کل تک گونگے تھے اب کرنے لگے ہیں بات بہت


سوچ سمجھ کر بات کیا کر اے سلطان فقیروں سے
ہو سکتا ہے کسی فقیر کی نکل آئے اوقات بہت


دولت والوں کی ہے شہرت شہرت والوں کی دولت
عزت سے ہیں ہم بستی میں یہ ہی بڑی ہے بات بہت


دو روز جدائی کے تجھ سے اتنی تو بڑی کوئی بات نہیں
برسوں سے بھی لمبے دیکھے ہیں ہم نے تو سلیلؔ دن رات بہت