نہ منزل تھی نہ رستہ تھا کیا پھر بھی سفر برسوں
نہ منزل تھی نہ رستہ تھا کیا پھر بھی سفر برسوں
وہ جلوہ تو گیا لیکن رہا اس کا اثر برسوں
سوال زندگی اکثر کئے رہتا پریشاں تھا
تلاش زندگی میں ہی رہی اپنی نظر برسوں
ملی جو ماں مجھے کل رات سپنے میں تو یاد آیا
نہیں جانا ہوا میرا ہے اب کے اپنے گھر برسوں
نہیں دیتی ہماری زندگی بھی آج کل فرصت
تمہارا بھی نہیں ہوتا ہے اب آنا ادھر برسوں
مری محرومیوں سے واسطہ تھا کیا بھلا اس کا
ملا پایا نہیں یا رب میں دنیا سے نظر برسوں
نہ جانے انتظار اس کا سلیلؔ رہتا ہے کیوں تجھ کو
نہیں رہتی جسے شاید خود اپنی ہی خبر برسوں