ہوئے جو قتل ان کا ہے وہی غم خوار بولے گا

ہوئے جو قتل ان کا ہے وہی غم خوار بولے گا
مزے کی بات ہے قاتل کی جے جے کار بولے گا


طبیعت ہو کہ نیت ہو حقیقت ہوگی ظاہر ہی
تری خاموشیوں میں بھی ترا کردار بولے گا


ستم گر نے جو کرنا تھا کیا لیکن ستم یہ ہے
مرے دل کو یقیں تھا کہ کوئی غم خوار بولے گا


کہانی زندگی کی ایک دریا کی حقیقت ہے
کنارے کچھ نہیں کہتے مگر مجھدھار بولے گا


چھپائے لاکھ تو اس کو ہے ایسی روشنی یہ تو
تری آنکھوں سے چمکے گی ترا انکار بولے گا


نہیں بولیں گے ہم لیکن ہماری بات بولے گی
جسے ہے بولنے کی لت وہی ہر بار بولے گا


پتا سب کو ہے لاچاری غریبی کا مقدر ہے
سویرے دیکھنا کیا کیا مگر اخبار بولے گا


ہے گل کا کیا ہیں اس کے تو ٹھکانے سو سللؔ صاحب
کبھی گر آنچ آئی تو چمن کا خار بولے گا